Chairman Awami Action Committee arrested for missing a hearing in ATC


چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی گرفتار، سینٹرل جیل گلگت منتقل
گلگت: عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے چیئرمین مولانا سلطان رئیس عدالت سےگرفتار، سینٹرل جیل منتقل کردیا گیا۔

عوامی ایکشن کمیٹی غذر کے چیرمین راجہ میر نواز میر کے مطابق سلطان رئیس گزشتہ پیشی پرعدالت نہیں آئےتھےجس پر ان کے وارنٹ جاری کیے گئےتھے۔ ہفتے کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہونے پرجج نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا جس کےبعد پولیس نے تحویل میں لے لیا۔ انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کردیا گیاہے۔

راجہ میرنوازمیر کا کہنا تھا کہ غیرحاضری حاضری کابہانہ بناکر قومی رہنماؤں کی تضحیک قبول نہیں، انسداد دہشت گردی عدالت میں کیس کی سماعت مسلسل 8 سالوں سے جاری ہے۔


Supreme Court hears sue moto notice on furor at ISB airport, GB minister could not appear

File photo: Minister of Tourism GB exchanges arguments with PIA office at Islamabad Airpport

پروازمنسوخ ہونےپرفلائیٹ افسرکودھکےدینےکےخلاف سپریم کورٹ کےازخودنوٹس کی لاہور رجسٹری میں سماعت، وزیرسیاحت گلگت بلتستان فداخان پیش نہ ہوسکے۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نےاسلام آباد ایئرپورٹ پر پیش آنےوالے ناخوشگوار واقعے کا ازخود نوٹس لیاتھا جس میں وزیرسیاحت فداخان نے پرواز منسوخ ہونے پر ایک فلائیٹ افسر پرشدید غصے کااظہار کرتے ہوئے اسے دھکے دیےتھے۔

چیف جسٹس نےسپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کیس کی سماعت کی جس میں فدا خان پیش نہ ہوسکے۔ فدا خان نےچیف جسٹس سے استدعا کی کہ وہ اتنے مختصر نوٹس پر گوپس سےلاہور پہنچ کرعدالت میں پیش نہیں ہوسکتے لہذا سماعت ملتوی کی جائے،اگلی پیشی پرحاضرہوکراپنا مدعا بیان کریں گے۔

ہاتھاپائی کا واقعہ جمعرات کواسلام آباد ایئرپورٹ پر پیش آیا جس کی وڈیوبھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ وڈیومیں دیکھا جاسکتا ہےکہ پہلے فداخان نےفلائیٹ افسرسےپوچھا کہ فلائیٹ کیوں منسوخ کی گئی، فلائیٹ افسرنےجواب دیاکہ موسم کی خرابی کےباعث منسوخ کی گئی، فداخان نے کہا کہ موسم تو صاف ہے،ہیلے بہانے بنا کرپروازیں منسوخ کرنا معمول بن گیا ہے، اس سے مسافروں کو کتنی مشکلات ہوتی ہیں اس کا اندازہ بھی ہےآپ کو، جاو اپنےاعلیٰ افسران سےکہو پرواز چلادیں، یہ کہتے ہوئے انہوں نےفلائیٹ افسر کو ایک زوردار دھکا دیاجس سےفلائیٹ آفسر پیروں پرپھسلتے ہوئے دور جاکر ٹھہرےتاہم گرنے سےبچ گئے۔

اس واقعےپر گلگت بلتستان حکومت نے بہت جاندار موقف اپنایا، قومی میڈیا نےبھی گلگت بلتستان کےمسافروں کے دیرینہ مسئلےکےتناظرمیں اس واقعےکومثبت اندازمیں پیش کیا اورپی آئی اے کےرویےکوتنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم میڈیا کے ایک سیکشن، جس میں سماء نیوز کے متنازعہ اینکرمبشرلقمان کا ٹاک شو شامل ہے، میں الٹا فدا خان کو آڑے ہاتھوں لیا گیا تھا۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شاید چیف جسٹس پاکستان نے اسی قسم کی کوریج کا اثرقبول کیا ہے، ہونا یہ چاہیےتھا کہ حیلوں بہانوں سے پروازوں کی مسلسل منسوخی، مسافروں کو بروقت آگاہ نہ کیےجانے، ایئرپورٹ پرپی آئی افسران کےتوہین آمیزسلوک اور اس سےمسافروں کوہونےوالی پریشانی کا نوٹس لیا جاتا اور پی آئی اے انتظامیہ کو عدالت میں طلب کیاجاتا، ان کے ساتھ فداخان کو طلب کیا جاتا۔ اس سے متصبانہ سلوک کا تاثرنہ جاتا۔ اس حقیقت کوبھی مدنظررکھنا چاہیےتھے کہ واقعے کےبعد گزشتہ تین دن سے اسلام آباد اور گلگت کےدرمیان کوئی پرواز منسوخ نہیں ہوئی، گلگت ایئرپورٹ کو بیک وقت دو دو طیارے نظرآنے لگےہیں۔


Supreme court seeks report on review GB order 2018,judiciary, adjourns case till December 3

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے 1999 کے فیصلے کی روشنی میں گلگت بلتستان میں بنیادی حقوق کی فراہمی اور علاقائی عدالتوں کے دائرہ اختیار سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت، کمیٹی سے پندرہ دن میں رپورٹ طلب، سماعت 3 دسمبر تک ملتوی۔


چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ اٹارنی جنرل نے گلگت بلتستان آرڈر 2018  سے متعلق سرتاج عزیز کمیشن کی سفارشات کی رپورٹ ایک ماہ بعدعدالت میں جمع کرادی۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان آرڈو 2018 پرنظرثانی اورعلاقائی عدالتوں کےدائرہ کارکےجائزے سے متعلق یکم نومبرکے حکم کی روشنی میں 10 رکنی کمیٹی کی تشکیل سےمتعلق رپورٹ بھی اٹارنی جنرل نے عدالت میں پیش کردی۔

 جمعرات 15 نومبر کو کیس کی سماعت شروع ہوئی تواٹارنی جنرل انور منصور نے جواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ میں نے وفاقی حکومت کوخط لکھ دیاتھا، وفاق نے میرا خط کابینہ کےسامنے رکھا۔

جسٹس گلزار نےاٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ حکومت نےگلگت بلتستان آرڈر 2018 بنایا ہے، جس پرعدالتی معاون سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ یہ نیا قانون عدالت میں چیلنج کیاگیا ہے۔ اٹارنی جنرل نےکہا کہ گلگت بلتستان میں قوانین کی تبدیلی کی سفارشات کابینہ کے ساتھ رکھی تھیں۔ 

 چیف جسٹس ثاقب نثار نےکمیٹی کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئےاٹارنی جنرل سےکہا کہ آپ اس معاملے کو سرد خانے میں ڈالنا چاہتے ہیں، یہ وہاں پر رہنے والے لوگوں کا معاملہ ہے، گلگت بلتستان کے لوگ پاکستان سے محبت کرتے ہیں، تمام کمیٹی ممبران کو بلا لیں، بیٹھ کر معاملات طے کر لیں۔ جسٹس گلزار نےکہا کہ آپ اس مسئلہ کو براہ راست حل کیوں نہیں کرتے؟ اٹارنی جنرل نےعدالت کا بتایا کہ میں بھی کمیٹی کا حصہ ہوں، آج کابینہ کا اجلاس ہورہا ہے۔ چیف جسٹس نےکہا کہ وفاقی وزیرامور کشمیر اس کمیٹی کے کنوینئر ہیں، چھوڑدیں اجلا س کو، یہاں آکر بتائیں مسئلہ کب اور کیسےحل کرنا ہے، انھیں بتائیں کہ عدالت بلا رہی ہے۔

اس پرعدالتی معاون اعترازاحسن نےکہا کہ میں اٹارنی جنرل کےموقف کی حمایت کرتا ہوں، بین الاقوامی قوانین کو بھی دیکھنا ہوگا،معاملہ حساس ہے، وفاقی حکومت کو وقت دیاجاناچاہیے۔

سماعت کے دوران جسٹس عطا بندیال نےکہا کہ موجودہ کمیٹی میں وزارت خارجہ کی نمائندگی نہیں،جسٹس گلزر نے کہا کہ 1947 کےبعد اس حوالے سے پالیسی آجانی چاہیےتھی،عدالت نےکمیٹی کو 15 دن میں رپورٹ جمع کرانے کوحکم دیتے ہوئےکیس کی سماعت تین دسمبر تک ملتوی کردی۔


گلگت بلتستان کا مقدمہ


سپریم کورٹ کے1999 کے فیصلےمیں وفاقی حکومت کو حکم دیاگیا تھاکہ وہ خطےکی متنازع حیثیت کومدنظر رکھتے ہوئےگلگت بلتستان کےعوام کوتمام شہری حقوق فراہم کرے۔ گلگت بلتستان بارکونسل اورڈاکٹرمحمد عباس کی جانب سے دائر آئینی درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت اس فیصلےکی روشنی میں گلگت بلتستان کےمستقبل کا تعین کرےاوروہاں کی عدالتوں کے دائرہ اختیار کوواضح کرے۔ اس حوالے سے دیگر 32 متفرق درخواستوں کوبھی یکجہا کیا گیا ہے۔
26 ستمبر 2018 کو چیف جسٹس ثاقب نثار نے کیس کی پہلی سماعت کی جس میں عدالتی معاونین مقرر کرنے اوران سےمشاورت کےبعد لارجربنچ تشکیل دینے کا اعلان کیا۔
9 اکتوبر کی سماعت میں ن لیگ دور میں گلگت بلتستان آرڈر 2018 متعارف کرانے والے سرتاج عزیز کی رپورٹ طلب کی گئی۔ 
یکم نومبرکی سماعت میں عدالت نےوفاقی حکومت سےگلگت بلتستان آرڈر 2018 پرنظرثانی اور گلگت بلتستان کی عدالتوں 
کے دائرہ کار سے متعلق رپورٹ طلب کی۔ 


کمیٹی کی تشکیل



حکومت نے سپریم کورٹ کے حکم پر 10 رکنی کمیٹی تشکیل دی ہےجس کی سربراہی وزیرامور کشمیر وگلگت بلتستان کررہےہیں۔ کمیٹی میں وفاقی وزیرقانون،اٹارنی جنرل، گلگت بلتستان کے گورنر اوروزیرقانون شامل ہیں۔ کمیٹی میں سیکرٹری خارجہ امور، سیکریٹری دفاع، سیکریٹری امورکشمیر بھی شامل کیے گئے ہیں۔ گلگت بلتستان کونسل کےڈپٹی سیکرٹری خزانہ کمیٹی کے سیکرٹری مقرر کیے گئے ہیں۔

گزشتہ روز(بدھ 14 نومبر) کو جاری اعلامیے کے مطابق کمیٹی سرتاج عزیز کمیشن، 1999 کے الجہادٹرسٹ کیس میں سپریم کورٹ کی سفارشات اور اٹارنی جنرل کی سفارشات کی روشنی میں گلگت بلتستان آرڈر 2018 کا ازسرنوجائزہ لےگی۔ کمیٹی اقوام متحدہ کی قراردادوں 
اور پاکستان کےعالمی سطح پراپنائے گئے موقف کی روشنی میں گلگت بلتستان کی حیثیت کا بھی جائزہ لےگی۔

یہ بھی پڑھیں

Grave concerns over resurgence of terrorism in Gilgit Baltistan


File photo:12 schools burned down by extremists in Chilas, Gilgit Baltistan 

Washington: A global report has expressed grave concern over the recent wave of terrorism, resurfacing of TTP in Gilgit Baltistan, and asked the policy makers to take immediate action and frame policy measures to curb militancy in the region before it escalates further.

Supreme Court seeks report on jurisdiction of Gilgit Baltistan courts, case adjourned till November 15


حکومت کی تبدیلی کا مطلب پالیسی کی تبدیلی نہیں‘چیف جسٹسگلگت بلتستان عدالتوں کے دائرہ کارسے متعلق کیس میں حکومت سے 15روزمیں جواب طلب


اسلام آباد(آئی این پی) سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کی عدالتوں کے دائرہ کار سے متعلق کیس میں حکومت سے 15 روز میں جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 15 نومبر تک ملتوی کردی۔ جمعرات کوکیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں سات رکنی لارجر بینچ نے کی۔ چیف جسٹس نے کہا حکومت نے ابھی تک جواب جمع نہیں کرایا حکومت کی تبدیلی کا مطلب پالیسی کی تبدیلی نہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا حکومتیں تو آتی جاتی رہتی ہیں کام بند نہیں ہوتےچیف جسٹس نے کہا ہم یہاں مشکل فیصلے کرنے کے لئے بیٹھے ہیں۔ 14اکتوبر کو حکم دیا مگر حکومت نے ابھی تک جواب نہیں دیا۔ اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ جواب جمع کرانے کے لئے پانچ روز دے دیں چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم تو ملک سے باہر جارہے ہیں۔ اگر وقت دینے کے باوجود جواب نہیں آتا تو آبزرویشن دے دیتے یں۔حکومت پندرہ روز میں جواب جمع کرائے۔ عدالت  نے مخدوم علی خان اور خالد جاوید خان کو بھی عدالتی معاون مقرر کردیا۔

Four persons are still missing after coaster accident in Kohistan

Breaking News...

File photo: Farida from Yasin, who was also on board, still missing

Gahkooch: Four persons including a woman are still missing and feared dead after tragic road accident in Kohistan on Sunday. Confusion persists about the death toll.


Independence Day of Gilgit Baltistan being celebrated with traditional zeal

Yadgar e Shohda, Chinar Bagh, Gilgit

GILGIT: The people of Gilgit-Baltistan celebrated 71st Independence Day, amid hearing a case in highest court regarding long awaited issue of basic rights in line with the principles set by United Nations for the disputed territories of Jammu and Kashmir.


The Independence Day is celebrated on first November to mark successful revolt against the ruler of then princely state of Jammu and Kashmir Mararaja Hari Singh.

Victims of Kohistan road accident laid to rest in tears

Funeral prayer of accident victims, attended by Governor, CM and Force Commander GB

Gahkooch: Thirteen victims of Kohistan road accident laid to rest in different villages on Wednesday, while four people including two soldiers and a woman are still missing.


13 dead bodies of Kohistan incident arrived in Gahkuch amid tears

Dead bodies of 13 passengers who lost their lives in Kohistan incident, brought to Gahkuch in military helicopter
People gathered in Gupis waiting for the dead bodies

Gahkuch: A military helicopter carrying 13 dead bodies of the passengers who lost their lives in Kohistan incident, arrived in Gahkuch today.

Passenger van fell into raven, 17 bodies recovered

Kohistan: Place of accident, photo contributed  by Abid Hassan
Kohistan: A passenger van travelling from Yasin valley to Rawalpindi, fell into raven at Lotar area in Upper Kohista district of Khyber Pakhtunkhwa on Sunday.