Friday, September 9, 2016

Police raids in Yasin, 5 Nationalists arrested



غذر: بی این ایف عبدالحمید گروپ کے ضلعی جنرل سیکرٹری قیوم خان کی شیڈول فور کے تحت گرفتاری کے بعد سیکورٹی فورسز کا یاسین میں ایک اور کریک ڈاون، بی این ایف حمید گروپ کے مزید پانچ کا رکن گرفتار کرلئے ۔ گرفتار ہونے والوں میں ایمان داد ولد ثورم خان ، محمد عالم ولد ولایت خان ، نیت ولی ولد نادر خان ساکنان برکلتی یا سین ، نوشاد ولد خیر گل ساکن مشر ، حفس علی ولد گل جان ساکن یاسین سنٹر شامل ہیں ۔ سیکورٹی فورسز نے بی این ایف حمید گروپ سے کسی بھی قسم کی وابستگی نہ رکھنے والے نوجوان ایمان داد کو بھی گرفتار کرلیا جس پرعوامی حلقے تشویش اور حیرت کا اظہار کرر ہے ہیں ۔ سی پیک کا نفرنس کے بعد گلگت بلتستان میں سیکورٹی فررسز کی جانب کریک ڈاون کا سلسلہ جاری ہے، راجہ عادل غیاث کی اپ ڈیٹ

Thursday, September 1, 2016

Another 4 nationalists arrested in Gilgit on treason charges



عوامی ایکشن کمیٹی کےچیرمین سمیت 4 اہم رہنما گرفتار،غداری کے الزامات عائد

گلگت: چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبےمیں نمایندگی، اسٹیٹ سبجیکٹ اور دیگرحقوق کےحق میں احتجاج پر عوامی ایکشن کمیٹی کےچیرمین مولانا سلطان رئیس اورکوآرڈی نیٹر فدا حسین سمیت چاروں رہنماوں کو اگلے روز انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کردیا۔ عدالت نے چاروں رہنماوں کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے 11 مطالبات پر مشتمل ایک چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا اور اس پر عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کےلیے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کا انعقاد کیا تھا۔


عوام ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں مناسب شیئر،خطےکوٹیکس فری زون قراردینا، جنرل سیلز ٹیکس میں گلگت بلتستان کا حصہ، سرکاری ملامتوں میں غیرمقامیوں کا کوٹہ  دو فیصد تک محدود کرنا، منرل  پالیسی 2016 کا خاتمہ، اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی،بلتستان کرگل سرحد کھولنا، براستہ غذرتاجکستان روڈ کی تعمیر شامل ہے۔ان مطالبات کے حق میں عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے مختلف علاقوں اور خاص طور پر گلگت میں ہڑتال،احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کا انعقاد کررہی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے گلگت شہر میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ اور 26 اگست کو شٹرڈاون ہڑتال کی کال دی تھی اور اگلے مرحلے میں بلتستان میں احتجاجی مظاہروں کے لیے عوامی رابطہ مہم چلانے میں مصروف تھی۔

مطالبات میں کتنا وزن

گلگت بلتستان کے حوالے سے کسی بھی فیصلے کو اس کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ قوم پرست رہنماوں نے اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کے کیس  پر منفصل روشنی ڈالی ہے اور اس سلسلے میں عوام میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اکثریتی آبادی نے شاید تہیہ کرلیا ہے کہ وہ ان قراردادوں کا نہ خود مطالعہ کریں گے اور نہ ہی قوم پرستوں کے باتوں پر یقین کریں گے۔ انہیں وفاقی حکومتوں اور گلگت بلتستان میں بننے والی کٹ پتلی حکومتوں پر زیادہ یقین ہے، اس لیے تجویز ہے کہ اس مسئلے کوان ہی کے "اصولی موقف" کے تناظر میں دیکھا جائے تاکہ "باشعور" عوام کوسمجھ میں آجائے اور ان کی غلط فہمیاں اور خوش فہمیاں دورہوں۔ 

وفاقی حکومت  کئی مرتبہ دہرا چکی ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کے آئین کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا کیوں کہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ہے جس سے متعلق پاکستان نے اقوام متحدہ ایک اصول موقف اپنا رکھا ہے، اب اگر وفاق چاہے بھی تو اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید، قمر زمان کائرہ اور دیگر کئی رہنماوں کے بیانات اور عدالتوں میں ان کا موقف رکارڈ پر موجود ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات اسی پس منظرکے گرد گھومتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بہت پاس ہے اور اسی بنیاد پر گلگت بلتستان کو آئین کا حصہ نہیں بنا سکتی  تو پھر انہیں قراردادوں کے تحت یہ بھی یقینی بنانا چاہئے کہ آزاد کشمیر کی طرح گلگت بلتستان میں بھی اسٹیٹ سبجیکٹ رول فعال ہو،یہاں غیرمقامیوں کی آباد کاری نہ ہوا، ٹیکسوں کا نفاذ نہ ہو۔ وفاقی حکومت اپنے تئےمتنازعہ علاقوں کےحوالے کسی دوسرے ملک سے معاہدے نہ کرے، یہاں کے علاقے دوسرے ممالک کو تحقے کے طور پر نہ دے، مقامی سرکاری عہدوں پرغیرمقامیوں اورخاص طور پرپنجابیوں کے بجائے مقامی افراد کو تعینات کیا جائے۔ حکومت پاکستان گلگت بلتستان کی سرزمین کےحوالے سے کسی دوسرے ملک سے کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہ کرے۔ 

افسوسناک امر یہ ہے کہ وفاقی حکومت اقوام متحدہ کی قراردادوں کو اپنے مفادات کےمطابق استعمال کررہی ہے۔ جہاں مفاد ہو ان قراردادوں کا سہارا لیا جاتا ہے اورجہاں مفاد نہ ہو ان قراردادوں کوپیروں تلے روند رہی ہے۔



عوامی ایکشن کمیٹی کے دیگر مطالبات خالصتا عوامی مفادات کےگرد گھومتےہیں، ان کا متنازعہ امور سے تعلق نہیں۔ اگرچہ یہ تمام مطالبات عوامی اہمیت کے حامل ہیں لیکن چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ چونکہ موجودہ وقت کاہاٹ ایشو ہےاس پرتفصیلی روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ چونکہ سی پیک منصوبے کےتحت شاہراہ قراقرم کا بڑا حصہ گلگت بلتستان سے گزرتا ہےلہٰذا اس پر یہاں کےعوام کو اعتماد میں لیا جائے اورانہیں جائز شیئر دیاجائے۔ اس منصوبے سےحاصل ہونےوالی کی آمدنی کا بیس فیصد دیاجائے، گلگت بلتستان میں کم از کم تین اقتصادی زون قائم کیے جائیں اورسوست ڈرائی پورٹ کو ہزارہ منتقل نہ کیا جائے۔ جمعرات کوگلگت کےدورےپرآرمی چیف جنرل راحیل شریف نےیہ بات دہرائی کہ سی پیک  آئےآرمی حیرت کی بات یہ ہے ایک طرف حکومت کہہ رہی ہے کہ سی پیک سے گلگت بلتستان میں معاشی انقلاب آئےگا، دوسری طرف دیکھا جائےتو گلگت بلتستان میں اقتصادی زون کے قیام کا کوئی منصوبہ سی پیک میں شامل نہیں، اورتو اورسوست ڈرائی پورٹ کو بھی ختم کرکے ہزارہ منتقل کیاجارہاہے۔ جبکہ شاہراہ قراقرم کی سیکیورٹی کےلیےگلگت بلتستان پولیس کا تین سو نفری کا خصوصی دستہ تیار کیا گیا اس کے اخراجات کون برداشت کرگا۔اگرچہ چین کی جانب سے پولیس کو25 گاڑیاں فراہم کی گئیں ہیں۔تاہم 300 اہلکاروں کی تنخواہیں، فیول اور دیگر اخراجات گلگت بلتستان کے بجٹ سے کیےجارہےہیں۔ ایک طرف خطےکو سی پیک کے فوائد سےمکمل طورپرمحروم رکھا گیا ہے اور دوسری طرف مقامی وسائل کوناجائز طور پراستعمال کیاجارہاہےاوراس ظالمانہ پالیسی کووفاقی حکومت گلگت بلتستان کی کٹھ پتلی حکومت کےذریعےعملی جامع پہنارہی ہے۔ اس سےعوام میں تشویش کی لہرایک قدرتی امر ہے۔عوامی ایکشن کمیٹی کےپلیٹ فارم سے اس پررد عمل سامنے آرہا ہے جسے کچلنےکےلیےتمام ریاستی حربےاستعمال کیےجارہے ہیں۔

 عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں یہ بھی شامل ہےکہ پاکستان کے دیگرصوبوں کی گلگت بلتستان کے عوام بھی جنرل سیلز ٹیکس ادا کرتےہیں۔ جس طرح دیگر شہروں کو اس کا شیئر دیا جاتا ہے گلگت بلتستان کو بھی دیا جائے۔ 

یہ امرقابل ذکرہےکہ گلگت بلتستان کے سالانہ ترقیاتی اورغیرترقیاتی بجٹ کووفاق کی جانب سےخصوصی گرانٹ کےطورپر پیش کیاجاتا ہے،گلگت بلتستان سےحاصل ہونےوالی آمدنی کی تفصیلات منظرعام پرنہیں لائی جاتیں۔ ایسا تاثردیاجاتا ہے کہ یہاں سےایک پیسےکی آمدنی نہیں ہورہی۔ ٹورزم، کوہ پیمائی، سوست بارڈر،تجارت، جنگلات، ٹرانسپورٹ، کسٹم ڈیوٹیز، انکم اوردیگرٹیکسز، سیلزٹیکس اوردیگر مدوں میں کتنی آمدنی ہوتی ہے،اس کی تفصیلات کبھی سامنے نہیں لائی گئیں

مزید اگلی قسط میں

Another 4 nationalists arrested in Gilgit on treason charges



عوامی ایکشن کمیٹی کےچیرمین سمیت 4 اہم رہنما گرفتار،غداری کے الزامات عائد

گلگت: چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبےمیں نمایندگی، اسٹیٹ سبجیکٹ اور دیگرحقوق کےحق میں احتجاج پر عوامی ایکشن کمیٹی کےچیرمین مولانا سلطان رئیس اورکوآرڈی نیٹر فدا حسین سمیت چاروں رہنماوں کو اگلے روز انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کردیا۔ عدالت نے چاروں رہنماوں کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے 11 مطالبات پر مشتمل ایک چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا اور اس پر عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کےلیے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کا انعقاد کیا تھا۔


عوام ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں مناسب شیئر،خطےکوٹیکس فری زون قراردینا، جنرل سیلز ٹیکس میں گلگت بلتستان کا حصہ، سرکاری ملامتوں میں غیرمقامیوں کا کوٹہ  دو فیصد تک محدود کرنا، منرل  پالیسی 2016 کا خاتمہ، اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی،بلتستان کرگل سرحد کھولنا، براستہ غذرتاجکستان روڈ کی تعمیر شامل ہے۔ان مطالبات کے حق میں عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے مختلف علاقوں اور خاص طور پر گلگت میں ہڑتال،احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کا انعقاد کررہی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے گلگت شہر میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ اور 26 اگست کو شٹرڈاون ہڑتال کی کال دی تھی اور اگلے مرحلے میں بلتستان میں احتجاجی مظاہروں کے لیے عوامی رابطہ مہم چلانے میں مصروف تھی۔

مطالبات میں کتنا وزن

گلگت بلتستان کے حوالے سے کسی بھی فیصلے کو اس کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ قوم پرست رہنماوں نے اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کے کیس  پر منفصل روشنی ڈالی ہے اور اس سلسلے میں عوام میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اکثریتی آبادی نے شاید تہیہ کرلیا ہے کہ وہ ان قراردادوں کا نہ خود مطالعہ کریں گے اور نہ ہی قوم پرستوں کے باتوں پر یقین کریں گے۔ انہیں وفاقی حکومتوں اور گلگت بلتستان میں بننے والی کٹ پتلی حکومتوں پر زیادہ یقین ہے، اس لیے تجویز ہے کہ اس مسئلے کوان ہی کے "اصولی موقف" کے تناظر میں دیکھا جائے تاکہ "باشعور" عوام کوسمجھ میں آجائے اور ان کی غلط فہمیاں اور خوش فہمیاں دورہوں۔ 

وفاقی حکومت  کئی مرتبہ دہرا چکی ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کے آئین کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا کیوں کہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ہے جس سے متعلق پاکستان نے اقوام متحدہ ایک اصول موقف اپنا رکھا ہے، اب اگر وفاق چاہے بھی تو اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید، قمر زمان کائرہ اور دیگر کئی رہنماوں کے بیانات اور عدالتوں میں ان کا موقف رکارڈ پر موجود ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات اسی پس منظرکے گرد گھومتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بہت پاس ہے اور اسی بنیاد پر گلگت بلتستان کو آئین کا حصہ نہیں بنا سکتی  تو پھر انہیں قراردادوں کے تحت یہ بھی یقینی بنائے کہ یہاں غیرمقامیوں کی آباد کاری نہ ہوا، ٹیکسوں کا نفاذ نہ ہو۔ وفاقی حکومت اپنے تئےمتنازعہ علاقوں کےحوالے کسی دوسرے ملک سے معاہدے نہ کرے، یہاں کے علاقے دوسرے ممالک کو تحقے کے طور پر نہ دیں، مقامی سرکاری عہدوں پر غیر مقامیوں اورخاص طور پرپنجابیوں کے بجائے مقامی افراد کو تعینات کیا جائے۔گلگت بلتستان کی سرزمین کے وفاقی حکومت کسی دوسرے ملک سے کسی قسم کو کوئی معاہدہ نہ کرے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ وفاقی حکومت اقوام متحدہ کی قراردادوں کو اپنے مفادات کے تناظرمیں استعمال کررہی ہے۔ اورجہاں فائدہ نہ ہوا ان قرارداردوں کو پیروتلے روند رہی ہے۔ 

بقیہ اگلی قسط میں۔۔۔۔

Wednesday, August 24, 2016

Gilgit Baltistan: The land of atrocities

Manzoor Parwana, Shujaat Shussain appearing befor ATC in Gilgit
Gilgit Baltistan, the land of atrocities, where hundreds of political leaders and rights defenders are facing state brutalities besides fabricated cases for 3 decades. Ironically, there seems no improvement in the situation and the rights abuses go on unabated in the disputed territory. There are a number of political activists who are still behind bars for raising voice for the rights of the two million disenfranchised people of Gilgit Baltistan. Syed Haider Shah Rizvi, one of the most prominent nationalist leaders from Skardu, passed away while defending himself in one such concocted case.

Qayoom Khan (BNF) appearing before ATC Gilgit. Safdar Ali, who
spent 6 months behind bars also seen
Manzoor Parwana, chairman, Gilgit Baltistan United Movement (GBUM), was booked in a treason case on July 28, 2011, and after the passage of about five years this case is still progressing at a snail's pace. The state is deliberately trying to delay the case to torture him financially and mentally. Mr Parwana is charged with putting the security of the country at a stake by demanding the reopening of the ancient trade route Skardu to Kargil to re-join the divided families across Loc.

Progressive youth leader Baba Jan and Iftikhar Karbalai have been awarded life
Baba Jan was being appeared before ATC which granted
him lifetime imprisonment
imprisonment after being booked under the anti-terrorism act for raising voice and leading rallies for the rights of the people displaced by the Attabad Lake. They are at the moment languishing in the district jail of Gilgit.
A leader of the Ghizer Youth Congress, Tahir Ali Tahir, has also been booked in another treason case for struggling to ensure the basic rights of the people of Gilgit-Baltistan. Another treason case is under adjudication in the chief court of Gilgit Baltistan against Karakorum National Movement chief Javed Hussain , Mumtaz Nagri, Taaruf Abbas and their colleagues. The Balor Research Forum leaders Engineer Amanullah and Sulatan Madad , Right activist Hidayatuualh Akhtar, GBJM Chairman Shujaat Ali, Secretary General GBDA Burhan Ullah , AWP leader Wajid Ali, GBNM
Col. Nadir Hassan, Safdar Ali, Iftikhar Hussain and other spent
six months behind bars.
Chairman Dr. Ghulam Abbas and dozens of others political activists are also booked in sedition charges. They are charged on speaking in a conference on the issue of Gilgit Baltistan and Kashmir.

The, scores of political activists and nationalist leaders including Col retired Nadir Khan, Safdar Ali, Iftikhar Hussain, Waseem and others were rounded up by the police and put in jail for trying to hand over a memorandum to the UN observers in the city regarding the public reservations over the China Pakistan Economic Corridor last year in Gilgit. Recently Muhammad Qayoom of Balawaristan National Front was sent to prison, participating in a public protest on the boundary issue with KPK.

It is very disturbing to note that most of these political activists and rights defenders were booked under the anti-terrorism act and treated as terror suspects for raising voice for the rights of the people of the region.

Article by Manzoor Parwana

Saturday, August 20, 2016

Another nationalist leader jailed under "Anti Terrorism Laws" in GB



ایک اورقوم پرست رہنما کو دہشتگردی کےالزامات لگاکر جیل بھیج دیاگیا
Qayoom Khan (Center) accompanied by Mehboob Ali
Mohammad Wazir Shafi, Safdar Ali and others, in front
of Anti Terrorism Court on Friday
گلگت بلتستان میں ایک اور قوم پرست رہنما کو سیاسی جدوجہد کی پاداش میں بےبنیاد الزامات پر جیل بھیج دیا گیا۔ بالاورستان نیشنل فرنٹ ضلع غذرکے جنرل سیکریٹری قیوم خان کو پہلے انسداد دہشتگردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں ڈال دیا گیا اور پھر فورتھ شیڈول کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کرکے زیر دفعہ 11 ای ای کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
جی بی ٹریبیون کے رابطہ کرنے پران کے بھائی نے بتایا کہ قیوم خان کو پیر کے روز پولیس نے گھر سے حراست میں لیا، اگلے روز انہیں کاہکوچ میں ایس پی آفس لے جایا گیا، ایس پی قیصر کے حکم پر انہیں اگلے روز گلگت میں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے قیوم خان کےخلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا جس پر انہیں واپس یاسین لاکر ایف آئی آر درج کی گئی جس کے بعد انہیں گھروالوں سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
جمعے کے روز قیوم خان کو دوبارہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شہبازخان کی روبرو پیش کیا گیا۔عدالت میں موجود ایک وکیل نے جی بی ٹریبیون کو بتایا کہ قیوم خان پر فورتھ شیڈول کی خلاف کے دو الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ایک الزام میں کہا گیا ہےکہ وہ ایس پی کی اجازت کے بغیر شندور گئے جبکہ دوسرا الزام ہے کہ خفیہ اہلکاروں نے قیوم خان کی گاڑی غذر ڈسٹرکٹ کی حدود سے باہر دیکھی تھی۔ اپنے دفاع میں قیوم خان نے عدالت میں ایس پی کا اجازت نامہ پیش کیا جس میں انہیں شندورجانے کی اجازت دی گئی تھی۔ دوسرے الزام کےبارےمیں موقف اختیار کیا کہ فورتھ شیڈول میں ان کا نام ہے، گاڑی کا نہیں، گاڑی کوئی بھی کہیں بھی لے جاسکتاہے۔ تاہم عدالت نے قیوم خان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا جس کے بعد انہیں ڈسٹرکٹ جیل گاہکوچ منتقل کردیاگیا۔
الزامات کے دفاع میں موقف اختیار کیا کہ شندور جانے کےلیے ایس پی سے باقاعدہ اجازت لی گئی تھی جس کے دستاویز
واضح رہے یہ وہی معززجج ہیں جنہوں نے بابا جان کوعمرقید کی سزا سنائی تھی۔ بابا جان، طاہرعلی طاہر اوردیگر اسیران کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے گوجال میں پولیس کے ہاتھوں عطاآباد جھیل کے 2 متاثرین کے بہیمانا قتل پراحتجاج کیا تھا۔ یہ جسٹس شہباز خان ہی تھے جنہوں نے جنگ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان کو 26 سال قید، 13 لاکھ روپے جرمانے اور تمام جائیداد ضبط کرنے کی سزا بھی سنائی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا تھا جب معروف صحافی حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملے کے بعد جنگ گروپ خفیہ ایجنسیوں کے زیرعتاب تھا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیوم خان کو فورتھ شیڈول میں ڈالنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا یہ قانونی لحاظ سے ناقابل فہم ہے۔ کیونکہ ان کا تعلق جس قوم پرست جماعت سے ہے یا جس جماعت کے پلیٹ فارم سے وہ سیاسی سرگرمیاں سرانجام دیتے رہے ہیں اس پر گلگت بلتستان میں کوئی  پابندی عائد نہیں ہے۔ نہ ہی قیوم خان کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں امن وامان کے مسائل پیدا کرنے کا باعث بنے۔ وہ خدمت گزاری، عوام دوستی، اعلیٰ کردار اور لوگوں میں گھل ملنے والی شخیصیت کے طور پر جانے جاتےہیں۔ ان کی سلجھی ہوئی اور سنجیدہ شخصیت کسی بھی قسم کے شک وشبے سے بالاتر ہے۔ البتہ سمجھ میں آنے والی بات یہ ہے کہ خفیہ ایجنسیاں بی این ایف، خاص طور اس کے سربراہ عبدالحمید خان سے خوش نہیں، خفیہ ایجنسیوں کا الزام ہے کہ عبدالحمید خان  نے بھارت سے ہاتھ ملایا ہوا ہے اور بیلجئم میں رہ کر پاکستان کےخلاف بیانات دیتےہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگرایسی بات تھی تو پھرکارروائی کچھ ایسے لوگوں کے خلاف ہوتی جو مبینہ طور پرعبدالحمید خان سے مالی فوائد حاصل کررہے ہیں اوربڑے بڑے کاروبار قائم کیے ہوئےہیں۔ ایک ماہرقانون کا کہنا تھا کہ قیوم خان پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف گلگت بلتستان میں ہونے والے حالیہ مظاہروں کا ردعمل ہوسکتا ہے۔ تاکہ لوگ خوف کے مارے ان مظاہروں میں شرکت نہ کریں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ شاید عوام بھول گئے ہیں کہ پولیس کے ہاتھوں ہنزہ عطا آباد جھیل کے متاثرین کے قتل کے خلاف مظاہروں پر بابا جان اور دیگر 7 افراد کے خلاف جو کارروائی کی گئی تھی اسے دہرایا جاسکتا ہے۔
قیوم خان نے گزشتہ سال گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا۔ تاہم حکومت کے اسٹیبلشمنٹ کے اوچھے ہتھکنڈوں کے باعث انہیں الیکشن سے دو دن پہلے مہم ترک کرکے بائیکاٹ کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ بائیکاٹ کو انہوں نے اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف احتجاج قرار دیا تھا تاہم یہ امر قابل غور ہے کہ علاقائی الیکشن کمیشن نے آخری لمحات میں ان کی انتخابی علامت مارخورکوالیکشن علامات کی فہرست سےیہ کہہ کر نکال دیا تھا کہ مارخور گلگت بلتستان اسکاوٹس کی بھی علامت ہے۔ الیکشن کمیشن نے حکمران مسلم لیگ ن کی انتخابی علامت شیر پر کبھی اعتراض نہیں کیا جو پاکستانی فوج کی علامت ہے۔
ان الیکشنزسے چند روزقبل گلگت بلتستان کی آزادی کے ہیرو کرنل حسن خان کے فرزند کرنل نادر حسن ، بی این ایف کے رہنما صفدرعلی سمیت کئی افراد کوگرفتارکرکے ان پرانسداد دہشت گردی کےمقدمات قائم کیےگئے۔ انہیں پاک چین اقتصاددی راہداری منصوبے کےخلاف اقوام متحدہ کے دفتر میں یادداشت جمع کرنے سے روک دیا گیا۔ پولیس نے جنگ آزادی کے ہیرو کے فرزند پراقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا۔ کرنل نادر اور دیگر رہنماوں کو چھ ماہ جوٹیال میں قائم ایک سب جیل میں رکھنے کے بعد گزشتہ سال نومبر میں ضمانت پر رہا کیاگیا۔
حکومت کے اس رویے سےیہ تاثرعوام میں ابھررہا ہے کہ وفاقی اسٹیبلشمنٹ مقامی آبادی کو دیوارسے لگا کرغیرمقامیوں کوان پر مسلط کرنے کے لیےاوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہےتاکہ متنازع خطےکےحوالے سےاپنے من پسند نتائج حاصل کرسکے۔ یہ رویہ حکومت پاکستان کے اس موقف کی مکمل نفی ہے جو اس نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ میں اپنائی ہوئی ہے اور اسے بنیاد بناکر بھارتی زیرقبضہ جموں وکشمیر میں سیاسی اور عسکری سرگرمیوں کی مبینہ طورپر پشت پناہی کررہی ہے۔ اس سے مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کو نہ صرف سپورٹ مل رہی ہے بلکہ ان کا مسئلہ عالمی طور پر اجاگر ہورہا ہے لیکن گلگت بلتستان میں روا رکھے جانے والے مظالم پرکوئی بولنا ہوا نہیں جس سے مظلوموں کی آواز دب کر رہ گئی ہے۔