Wednesday, June 7, 2017

70 Yrs After Snatching It from India, Pak Selling Gilgit-Baltistan land to China



Locals in Gilgit-Baltistan — bigger of the two parts of the Kashmir region occupied by Pakistan — are protesting against Islamabad grabbing large tracts of their land and handing it over to Chinese companies and the Red Army.

Information and interviews exclusively accessed by CNN-News18 showed that the land was procured mostly by force by Pakistani generals for the China Pakistan Economic Corridor (CPEC) and those resisting are either killed off or incarcerated without a trial.

"Thousands had their land snatched and occupied by the military authorities and their agencies. Under this black draconian rule, nobody can raise their voices against the CPEC," Wajahat Hasan, Chairman of the Gilgit-Baltistan Thinkers Forum (GBTF), told CNN-News18.

Many there fear that the next step in the land grab is the posting of Pakistani and Chinese troops in the disputed land that was snatched from India immediately after Partition.

"They have to build many cantonments in Gilgit-Baltistan and both China and Pakistan will station their huge divisions of army," said Abdul Hamid Khan, Chairman of the Balawaristan National Front (BNF).

Gilgit-Baltistan, often referred to as the 'Forgotten Kashmir', is an area six times the size of remaining Pakistan-occupied Kashmir. It used to be the northern-most part of the undivided kingdom of Jammu and Kashmir, and post Partition, the Congress government of the time could not stop Pakistani raiders from taking over the land. The next 70 years of Islamabad's iron rule saw forced resettlements and genocides reducing the original Shia Kashmiri population to a minority.

The area was back in focus last year when Prime Minister Narendra Modi, in his Independence Day speech, hit out against the atrocities committed by Pakistan in that area. The reference gave renewed hope to the people of the region.

Plans are also afoot in Pakistan to declare Gilgit-Baltistan as the country’s fifth province after Balochistan, Khyber Pakhtunkhwa, Punjab and Sindh, raising concerns in India. It is believed that China's concerns about the unsettled status of Gilgit-Baltistan prompted Pakistan to mull the move.

According to an earlier report in Dawn newspaper, Pakistan was mulling to elevate the constitutional status of the region in a bid to provide legal cover to the CPEC.

Gilgit-Baltistan is treated as a separate geographical entity by Pakistan. It has a regional assembly and an elected Chief Minister.

Friday, September 9, 2016

Police raids in Yasin, 5 Nationalists arrested



غذر: بی این ایف عبدالحمید گروپ کے ضلعی جنرل سیکرٹری قیوم خان کی شیڈول فور کے تحت گرفتاری کے بعد سیکورٹی فورسز کا یاسین میں ایک اور کریک ڈاون، بی این ایف حمید گروپ کے مزید پانچ کا رکن گرفتار کرلئے ۔ گرفتار ہونے والوں میں ایمان داد ولد ثورم خان ، محمد عالم ولد ولایت خان ، نیت ولی ولد نادر خان ساکنان برکلتی یا سین ، نوشاد ولد خیر گل ساکن مشر ، حفس علی ولد گل جان ساکن یاسین سنٹر شامل ہیں ۔ سیکورٹی فورسز نے بی این ایف حمید گروپ سے کسی بھی قسم کی وابستگی نہ رکھنے والے نوجوان ایمان داد کو بھی گرفتار کرلیا جس پرعوامی حلقے تشویش اور حیرت کا اظہار کرر ہے ہیں ۔ سی پیک کا نفرنس کے بعد گلگت بلتستان میں سیکورٹی فررسز کی جانب کریک ڈاون کا سلسلہ جاری ہے، راجہ عادل غیاث کی اپ ڈیٹ

Thursday, September 1, 2016

Another 4 nationalists arrested in Gilgit on treason charges



عوامی ایکشن کمیٹی کےچیرمین سمیت 4 اہم رہنما گرفتار،غداری کے الزامات عائد

گلگت: چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبےمیں نمایندگی، اسٹیٹ سبجیکٹ اور دیگرحقوق کےحق میں احتجاج پر عوامی ایکشن کمیٹی کےچیرمین مولانا سلطان رئیس اورکوآرڈی نیٹر فدا حسین سمیت چاروں رہنماوں کو اگلے روز انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کردیا۔ عدالت نے چاروں رہنماوں کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے 11 مطالبات پر مشتمل ایک چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا اور اس پر عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کےلیے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کا انعقاد کیا تھا۔


عوام ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں مناسب شیئر،خطےکوٹیکس فری زون قراردینا، جنرل سیلز ٹیکس میں گلگت بلتستان کا حصہ، سرکاری ملامتوں میں غیرمقامیوں کا کوٹہ  دو فیصد تک محدود کرنا، منرل  پالیسی 2016 کا خاتمہ، اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی،بلتستان کرگل سرحد کھولنا، براستہ غذرتاجکستان روڈ کی تعمیر شامل ہے۔ان مطالبات کے حق میں عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے مختلف علاقوں اور خاص طور پر گلگت میں ہڑتال،احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کا انعقاد کررہی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے گلگت شہر میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ اور 26 اگست کو شٹرڈاون ہڑتال کی کال دی تھی اور اگلے مرحلے میں بلتستان میں احتجاجی مظاہروں کے لیے عوامی رابطہ مہم چلانے میں مصروف تھی۔

مطالبات میں کتنا وزن

گلگت بلتستان کے حوالے سے کسی بھی فیصلے کو اس کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ قوم پرست رہنماوں نے اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کے کیس  پر منفصل روشنی ڈالی ہے اور اس سلسلے میں عوام میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اکثریتی آبادی نے شاید تہیہ کرلیا ہے کہ وہ ان قراردادوں کا نہ خود مطالعہ کریں گے اور نہ ہی قوم پرستوں کے باتوں پر یقین کریں گے۔ انہیں وفاقی حکومتوں اور گلگت بلتستان میں بننے والی کٹ پتلی حکومتوں پر زیادہ یقین ہے، اس لیے تجویز ہے کہ اس مسئلے کوان ہی کے "اصولی موقف" کے تناظر میں دیکھا جائے تاکہ "باشعور" عوام کوسمجھ میں آجائے اور ان کی غلط فہمیاں اور خوش فہمیاں دورہوں۔ 

وفاقی حکومت  کئی مرتبہ دہرا چکی ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کے آئین کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا کیوں کہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ہے جس سے متعلق پاکستان نے اقوام متحدہ ایک اصول موقف اپنا رکھا ہے، اب اگر وفاق چاہے بھی تو اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید، قمر زمان کائرہ اور دیگر کئی رہنماوں کے بیانات اور عدالتوں میں ان کا موقف رکارڈ پر موجود ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات اسی پس منظرکے گرد گھومتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بہت پاس ہے اور اسی بنیاد پر گلگت بلتستان کو آئین کا حصہ نہیں بنا سکتی  تو پھر انہیں قراردادوں کے تحت یہ بھی یقینی بنانا چاہئے کہ آزاد کشمیر کی طرح گلگت بلتستان میں بھی اسٹیٹ سبجیکٹ رول فعال ہو،یہاں غیرمقامیوں کی آباد کاری نہ ہوا، ٹیکسوں کا نفاذ نہ ہو۔ وفاقی حکومت اپنے تئےمتنازعہ علاقوں کےحوالے کسی دوسرے ملک سے معاہدے نہ کرے، یہاں کے علاقے دوسرے ممالک کو تحقے کے طور پر نہ دے، مقامی سرکاری عہدوں پرغیرمقامیوں اورخاص طور پرپنجابیوں کے بجائے مقامی افراد کو تعینات کیا جائے۔ حکومت پاکستان گلگت بلتستان کی سرزمین کےحوالے سے کسی دوسرے ملک سے کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہ کرے۔ 

افسوسناک امر یہ ہے کہ وفاقی حکومت اقوام متحدہ کی قراردادوں کو اپنے مفادات کےمطابق استعمال کررہی ہے۔ جہاں مفاد ہو ان قراردادوں کا سہارا لیا جاتا ہے اورجہاں مفاد نہ ہو ان قراردادوں کوپیروں تلے روند رہی ہے۔



عوامی ایکشن کمیٹی کے دیگر مطالبات خالصتا عوامی مفادات کےگرد گھومتےہیں، ان کا متنازعہ امور سے تعلق نہیں۔ اگرچہ یہ تمام مطالبات عوامی اہمیت کے حامل ہیں لیکن چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ چونکہ موجودہ وقت کاہاٹ ایشو ہےاس پرتفصیلی روشنی ڈالتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ چونکہ سی پیک منصوبے کےتحت شاہراہ قراقرم کا بڑا حصہ گلگت بلتستان سے گزرتا ہےلہٰذا اس پر یہاں کےعوام کو اعتماد میں لیا جائے اورانہیں جائز شیئر دیاجائے۔ اس منصوبے سےحاصل ہونےوالی کی آمدنی کا بیس فیصد دیاجائے، گلگت بلتستان میں کم از کم تین اقتصادی زون قائم کیے جائیں اورسوست ڈرائی پورٹ کو ہزارہ منتقل نہ کیا جائے۔ جمعرات کوگلگت کےدورےپرآرمی چیف جنرل راحیل شریف نےیہ بات دہرائی کہ سی پیک  آئےآرمی حیرت کی بات یہ ہے ایک طرف حکومت کہہ رہی ہے کہ سی پیک سے گلگت بلتستان میں معاشی انقلاب آئےگا، دوسری طرف دیکھا جائےتو گلگت بلتستان میں اقتصادی زون کے قیام کا کوئی منصوبہ سی پیک میں شامل نہیں، اورتو اورسوست ڈرائی پورٹ کو بھی ختم کرکے ہزارہ منتقل کیاجارہاہے۔ جبکہ شاہراہ قراقرم کی سیکیورٹی کےلیےگلگت بلتستان پولیس کا تین سو نفری کا خصوصی دستہ تیار کیا گیا اس کے اخراجات کون برداشت کرگا۔اگرچہ چین کی جانب سے پولیس کو25 گاڑیاں فراہم کی گئیں ہیں۔تاہم 300 اہلکاروں کی تنخواہیں، فیول اور دیگر اخراجات گلگت بلتستان کے بجٹ سے کیےجارہےہیں۔ ایک طرف خطےکو سی پیک کے فوائد سےمکمل طورپرمحروم رکھا گیا ہے اور دوسری طرف مقامی وسائل کوناجائز طور پراستعمال کیاجارہاہےاوراس ظالمانہ پالیسی کووفاقی حکومت گلگت بلتستان کی کٹھ پتلی حکومت کےذریعےعملی جامع پہنارہی ہے۔ اس سےعوام میں تشویش کی لہرایک قدرتی امر ہے۔عوامی ایکشن کمیٹی کےپلیٹ فارم سے اس پررد عمل سامنے آرہا ہے جسے کچلنےکےلیےتمام ریاستی حربےاستعمال کیےجارہے ہیں۔

 عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں یہ بھی شامل ہےکہ پاکستان کے دیگرصوبوں کی گلگت بلتستان کے عوام بھی جنرل سیلز ٹیکس ادا کرتےہیں۔ جس طرح دیگر شہروں کو اس کا شیئر دیا جاتا ہے گلگت بلتستان کو بھی دیا جائے۔ 

یہ امرقابل ذکرہےکہ گلگت بلتستان کے سالانہ ترقیاتی اورغیرترقیاتی بجٹ کووفاق کی جانب سےخصوصی گرانٹ کےطورپر پیش کیاجاتا ہے،گلگت بلتستان سےحاصل ہونےوالی آمدنی کی تفصیلات منظرعام پرنہیں لائی جاتیں۔ ایسا تاثردیاجاتا ہے کہ یہاں سےایک پیسےکی آمدنی نہیں ہورہی۔ ٹورزم، کوہ پیمائی، سوست بارڈر،تجارت، جنگلات، ٹرانسپورٹ، کسٹم ڈیوٹیز، انکم اوردیگرٹیکسز، سیلزٹیکس اوردیگر مدوں میں کتنی آمدنی ہوتی ہے،اس کی تفصیلات کبھی سامنے نہیں لائی گئیں

مزید اگلی قسط میں

Another 4 nationalists arrested in Gilgit on treason charges



عوامی ایکشن کمیٹی کےچیرمین سمیت 4 اہم رہنما گرفتار،غداری کے الزامات عائد

گلگت: چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبےمیں نمایندگی، اسٹیٹ سبجیکٹ اور دیگرحقوق کےحق میں احتجاج پر عوامی ایکشن کمیٹی کےچیرمین مولانا سلطان رئیس اورکوآرڈی نیٹر فدا حسین سمیت چاروں رہنماوں کو اگلے روز انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کردیا۔ عدالت نے چاروں رہنماوں کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے 11 مطالبات پر مشتمل ایک چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا اور اس پر عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کےلیے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کا انعقاد کیا تھا۔


عوام ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں مناسب شیئر،خطےکوٹیکس فری زون قراردینا، جنرل سیلز ٹیکس میں گلگت بلتستان کا حصہ، سرکاری ملامتوں میں غیرمقامیوں کا کوٹہ  دو فیصد تک محدود کرنا، منرل  پالیسی 2016 کا خاتمہ، اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی،بلتستان کرگل سرحد کھولنا، براستہ غذرتاجکستان روڈ کی تعمیر شامل ہے۔ان مطالبات کے حق میں عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے مختلف علاقوں اور خاص طور پر گلگت میں ہڑتال،احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کا انعقاد کررہی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے گلگت شہر میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ اور 26 اگست کو شٹرڈاون ہڑتال کی کال دی تھی اور اگلے مرحلے میں بلتستان میں احتجاجی مظاہروں کے لیے عوامی رابطہ مہم چلانے میں مصروف تھی۔

مطالبات میں کتنا وزن

گلگت بلتستان کے حوالے سے کسی بھی فیصلے کو اس کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ قوم پرست رہنماوں نے اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کے کیس  پر منفصل روشنی ڈالی ہے اور اس سلسلے میں عوام میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اکثریتی آبادی نے شاید تہیہ کرلیا ہے کہ وہ ان قراردادوں کا نہ خود مطالعہ کریں گے اور نہ ہی قوم پرستوں کے باتوں پر یقین کریں گے۔ انہیں وفاقی حکومتوں اور گلگت بلتستان میں بننے والی کٹ پتلی حکومتوں پر زیادہ یقین ہے، اس لیے تجویز ہے کہ اس مسئلے کوان ہی کے "اصولی موقف" کے تناظر میں دیکھا جائے تاکہ "باشعور" عوام کوسمجھ میں آجائے اور ان کی غلط فہمیاں اور خوش فہمیاں دورہوں۔ 

وفاقی حکومت  کئی مرتبہ دہرا چکی ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کے آئین کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا کیوں کہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ہے جس سے متعلق پاکستان نے اقوام متحدہ ایک اصول موقف اپنا رکھا ہے، اب اگر وفاق چاہے بھی تو اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید، قمر زمان کائرہ اور دیگر کئی رہنماوں کے بیانات اور عدالتوں میں ان کا موقف رکارڈ پر موجود ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات اسی پس منظرکے گرد گھومتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بہت پاس ہے اور اسی بنیاد پر گلگت بلتستان کو آئین کا حصہ نہیں بنا سکتی  تو پھر انہیں قراردادوں کے تحت یہ بھی یقینی بنائے کہ یہاں غیرمقامیوں کی آباد کاری نہ ہوا، ٹیکسوں کا نفاذ نہ ہو۔ وفاقی حکومت اپنے تئےمتنازعہ علاقوں کےحوالے کسی دوسرے ملک سے معاہدے نہ کرے، یہاں کے علاقے دوسرے ممالک کو تحقے کے طور پر نہ دیں، مقامی سرکاری عہدوں پر غیر مقامیوں اورخاص طور پرپنجابیوں کے بجائے مقامی افراد کو تعینات کیا جائے۔گلگت بلتستان کی سرزمین کے وفاقی حکومت کسی دوسرے ملک سے کسی قسم کو کوئی معاہدہ نہ کرے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ وفاقی حکومت اقوام متحدہ کی قراردادوں کو اپنے مفادات کے تناظرمیں استعمال کررہی ہے۔ اورجہاں فائدہ نہ ہوا ان قرارداردوں کو پیروتلے روند رہی ہے۔ 

بقیہ اگلی قسط میں۔۔۔۔