Wednesday, October 17, 2012

GB Government to give unlawful teaching posts the legal cover

گلگت: صوبائی وزیرتعلیم ڈاکٹرعلی مددشیرنےمحکمہ تعلیم کےآسامیاں فروخت کےمیگااسکینڈل پرپردہ ڈالنےکی حکمت عملی تیارکرلی۔نئی آسامیوں کی آڑ میں کروڑوں روپےکی عوض فروخت کی گئیں 500سےزائدغیرقانونی آسامیوں کوقانونی شکل دینےکافیصلہ،آیندہ دوماہ کےاندرعمل درآمدکااعلان کردیا۔
تفصیلات کےمطابق میڈیامیں اساتذہ کی 500سےزائدغیرقانونی آسامیوں سےمتعلق خبریں منظرعام پرآنےکےبعدڈاکٹرعلی مددشیرگزشتہ روزمحکمہ تعلیم کےاعلیٰ حکام کےساتھ سرجوڑکربیٹھ گئے۔اس ملاقات میں اسکینڈل کی رسوائی سےبچنےکےلیےمختلف طریقوں پرغورکیاگیا اوریہ فیصلہ کیاگیاکہ جلد نئی آسامیوں کااعلان کرکےان غیرقانونی آسامیوں کوبھی اسی میں کھپادیاجائےاوراس سلسلےمیں ہونی والی تحقیقات کےنتیجےمیں متوقع شدیدخفت سےبچاجاسکے۔ملاقات کےبعدڈاکٹرعلی مددشیرنےانتہائی عجلت میں یہ اعلان کیاکہ حکومت دسمبرکےآخرتک ٹیچرکی ایک ہزارنئی آسامیاں مشتہرکرےگی اوران آسامیوں پربھرتیاں میرٹ کی بنیادپرہوں گی۔ 
واضح رہےکہ گلگت بلتستان میں گزشتہ دوسال سےغیرقانونی ٹیچنگ آسامیوں کی کروڑوں روپےکی عوض کھلےعام فروخت جاری ہے۔شروع میں یہ آسامیاں کو2لاکھ روپےمیں فروخت کی گئیں اوراب فی آسامی کی قیمت 4 لاکھ روپےسےتجاوزکرچکی ہے۔گریڈ14تک کی یہ غیرقانونی آسامیاں خریدنےوالےزیادہ ترافرادمتعلقہ تعلیمی اہلیت بھی نہیں رکھتے۔جی بی ٹریبیون کےپاس ایسےکئی افرادکےکوائف ثبوت کےطورپرموجودہیں۔
ان آسامیوں کی فروخت محکمہ تعلیم کےایک سینیراہلکارکاچوفیاض اوروزیرتعلیم ڈاکٹرعلی مددشیرکی ملی بھگت سےہورہی ہےتاہم ڈاکٹرعلی مددشیرکاکہناہےکہ یہ پوسٹیں انہوں نےاسلام آبادسےخریدکرلائی ہوئی ہیں۔وزیرتعلیم کایہ موقف اس بات کااعتراف ہےکہ اس بدترین کرپشن میں وہ براہ راست ملوث ہیں۔اوریہ بات اب کسی سےڈھکی چھپی نہیں رہی کہ اس کاماسٹرمائنڈدراصل کاچوفیاض ہےجومحکمہ تعلیم کےٹپی کےنام سےبھی جانےجاتےہیں۔کاچوفیاض اس سےقبل اسکردوکی ڈھائی سوٹیچرزکی آسامیوں اس طرح کروڑوں روپےکی عوض فروخت کرچکاہےلیکن حکومت لاتعدادشکایتوں کےباوجودکاچوفیاض کےخلاف کارروائی سےگریزاں ہے۔ذرائع کےمطابق وزیراعلیٰ سیدمہدی شاہ کاچوفیاض کےہاتھوں بلیک میلنگ کاشکارہیں جس کی وجہ مبینہ طورپرہم جنس پرستی کےحوالےسےوزیراعلیٰ کی متنازع شخصیت قراردی جارہی ہے۔
کاچوفیاض اورڈاکٹرعلی مددشیرغیرقانوی آسامیوں کی فروخت سےاب تک کروڑوں روپےکماچکےہیں اورشدیدشورشرابہ کےباوجودیہ سلسلہ ہنوزجاری ہے۔ گلگت بلتستان کی حکومت پرکاچوفیاض بھاری تھی ہی اوراب صوبائی وزیرتعلیم کی شراکت داری کےبعدان کی طاقت میں بےپناہ اضافہ ہواہے۔اس کااندازہ صوبائی اداروں کی بےبسی سےلگایاجاسکتاہے۔
مانیٹرنگ ڈسک 

No comments:

Post a Comment