Sunday, July 17, 2011

A real test of Nation's Talent and Potential

قوموں کاامتحان۔۔۔۔
   امریکاکےایک تحقیقاتی ادارے نےایک سروے رپورٹ شائع کی ہے جس میں قدرتی آفات مثلاً زلزلہ،سیلاب،طوفان اورسونامی جیسے حالات کےبعدانسانی زندگی پرپڑنےوالےاثرات پرروشنی ڈالی گئی ہے۔تحقیق کامقصد یہ تھاکہ اس طرح کےآفات سے انسانی زندگیوں میں کس قسم کی تبدیلیاں رونماہوتیں ہیں جو ان کی زندگیوں میں پہلےنہیں پائےجاتے تھے۔اس تحقیق کےبعد یہ نتیجہ سامنےآیا ہےکہ ان لوگوں  میں واقعی ایسی تبدیلیاں مشاہدےمیں آئیں ہیں جو ان میں پہلےنہیں پائےجاتےتھے۔مثلاً دوسروں پرانحصاروالی عادتیں،برداشت کافقدان،کام چوری اورکاہلی کی عادت،صبراورتوکل کاختم ہونا،خوداعتمادی میں کمی آنا،اپنی صلاحیتوں پرعدم اعتماد،دوسروں کےآسرے میں زندگی گزارنےکی جیسی عادتیں دیکھےگئےہیں۔ رپورٹ میں اس بات کابھی برملا اظہارکیاگیاہےکہ ایسے موقعوں سےدوسرےممالک یادشمن ممالک اورادارے اپنےمقاصدکےحصول کےلیےطرح طرح کےہتھکنڈےبھی استعمال کررہےہوتےہیں اورکوشش کرتےہیں کہ اس موقعے سے فائدہ اٹھاکرنقصان پہنچایاجائے۔ہم اس تحقیق کواپنےتجربات اورمشاہدات کےتقابلی اندازمیں دیکھنے کی کوشش کریں گےکہ آیایہ تحقیق کہاں تک حقیقت پرمبنی ہے۔
   اس بات سے کوئی بھی انکارنہیں کرتاکہ ہنزہ گوجال کےلوگ نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیاکےکئی ممالک میں اپنی حب الوطنی،محنت،ہنرمندی،علم دوستی،جفاکشی،زیرک،غیرت مند،قانون کےپاسدارہونےکی صفات کی وجہ سےمشہورتھے۔ پچھلےسال تک میڈیانےیہاں تک کہاکہ پاکستان میں ہنزہ گوجال کاعلاقہ واحدجگہ ہےجہاں کوئی بھکاری نہیں،معاشرے کاوہ بندہ بھی برسرروزگارہےجوجسمانی اورذہنی طورپرمعذورہے یاکسی طورپردنیامیں مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتاوہ بھی یہاں روزی کمانے میں مصروف ہے۔ اس کےعلاوہ ان کی علم دوستی کےبہت چرچےتھے۔کھیتی باڈی میں مرداورعورت مل کرمحنت کرتےتھے۔تمام شعبہ ہائےزندگی میں مردوں اورعورتوں نے مل کردنیاکامقابلہ کیا۔ننگ وناموس کےکئی تاریخی واقعات مشہورہیں۔ یہاں کےلوگوں نے ملک کےہرشعبے میں اپنانام ااورمقام پیداکیا۔آزادی گلگت بلتستان میں اپنی جانی اورمالی قربانی کی وجہ سے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پاکستان کے لوگوں میں مشہورہوئے۔ملکی دفاع میں کارہائےنمایاں انجام دینےکی بدولت افواج پاکستان میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتےہیں۔
   سانحہ عطاءآبادوقوع پذیرہونےکےبعدکےسماجی اورنفسیاتی روئیوں پرجب ہم نظرڈالتےہیں تو ہمیں ان کےروئیوں میں تضادنظرآتاہے۔اس قدرتی آفت کے نتیجےمیں پیداہونےوالے عوامل جن میں سرفہرست امدادکی فراہمی سے پیداہونےوالی سماجی اورنفسیاتی روئیوں میں تبدیلیاں نظرآئیں ہیں کہ واقعی امداد نے ہمیں اورہمارےذہنوں کوکافی حدتک تبدیل کردیاہے۔امدادبرائے امدادرحمت کم اورزحمت زیادہ ثابت ہونےلگی ہے۔ہماری تاریخی پہچان اورمیراث کوبدل کررکھ دیاہے۔ہم میں بھکاریوں والی خصوصیات نمودارہونےلگی ہیں۔ہم واقعی کاہلی،بےصبرے اورناشکرےہوگئےہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بنیادی اورابتدائی بحالی کی ذمےداری ریاست کےکاندھوں پرآتی ہے لیکن اس طرح کی امدادکومستقل سمجھ کرآسرے میں رہنایقیناً ایک بہت بڑی سماجی اورنفسیاتی تنزلی کی علامت کےطورپرسامنےآئی ہےاوران سوالوں کوجنم دیتی ہے کہ کیاامدادکےبغیربحالی ممکن نہیں؟ کیا ہم خوداپنی مددآپ کےتحت اس مشکل گھڑی میں زندہ رہ سکتےہیں؟کیاہم اپنی پہچان کوبرقرارنہیں رکھ سکتے؟کیادنیامیں کوئی قوم یاملک بغیرمستقل امدادکےزندگی نہیں گزارسکتی؟ان سب سوالوں کاجواب ہاں میں ہے۔ چین کی مثال اس سلسلے میں بہت مشہورہے کہ چین کے شہر تانگ شان میں 1976میں رات3 بج کر42 منٹ پرقیامت خیززلزلہ آیاجس کی شدت ریکٹراسکیل پ7.6تھی۔ اس زمانے میں تانگ شان کاشمار چین کےچند بڑےکاروباری اورصنعتی شہروں میں ہوتاتھا۔  پھر28جولائی 1976کوتانگ شان شہرپرقیامت ٹوٹ پڑی۔زلزلےکےباعث پوراشہرزمین بوس ہوگیاجس میں کل 6 لاکھ 55ہزارافرادلقمہ اجھل بن گئے جبکہ7 لاکھ 70ہزارافرادشدیدزخمی ہوئے۔یہ بیسویں صدی کاسب سےبڑانقصان تھا۔ اس وقت بابائے چین ماؤزےتنگ زندہ تھے۔ ان کی عمر83برس تھی اوروہ علیل تھے۔اس کےباوجود وہ تانگ شان پہنچے۔تمام حالات کاازخودجائزہ لیا۔اس وقت پوری دنیانےچین اورماؤزے تنگ کوامدادکی پیشکش کی لیکن ماؤنےیہ کہہ کرامدادلینےسےانکارکیاکہ یہ امتحان قدرت نے چینی قوم سےلیاہےلہٰذا اس کامقابلہ بھی چینی عوام کوہی کرناہے۔انہوں نےامدادی اوربحالی کاکام چینی قوم کوہی سونپا،زلزلےکےبعد شہرمیں تین قسم کےلوگ تھے۔ایک وہ جوانتقال کرگئےتھے۔دوسرے وہ جوشدیدزخمی ہوئےتھے اورتیسرے وہ جواس سانحے میں بچ گئےتھے۔پہلےمرحلےمیں  چینی حکومت نے فوری طورپرنعشوں کو دفنادیا،زخمیوں کومرہم پٹی کی اوربچ جانےوالوں کوملبہ ہٹانےپرلگادیا۔دوسرامرحلہ بحالی کاتھا۔اس زلزلے میں تانگ شان کے4لاکھ خاندامتاثرہوئے تھے۔ ان متاثرین کےپاس صرف تن پرکپڑےکےسواکچھ نہیں بچاتھا۔کوئی بھی ایسی چیزنہیں بچی تھی جو ان کو مددفراہم کرسکے لہٰذا چینی حکومت نے پورے ملک میں اعلان کروایا کہ کوئی چینی باشندہ ایک متاثرہ خاندان کواپنےہاں بحیثیت مہمان رضاکارانہ طورپررکھ سکتاہے۔ اس اعلان کےجواب میں پورےملک سےکئی لاکھ لوگوں نے خواہش ظاہرکی۔ اس کےلیے ہرصوبے میں معلوماتی مراکزقائم کیےگئے۔لوگوں نےرضاکارانہ طورپراپنےنام مکمل پتہ کےساتھ ان مراکزمیں جمع کروائے۔مختلف صوبوں سےرضاکاروں کی فہرست تنگ شان حکومت کےپاس پہنچادی گئی اوراس کےبعدماؤزےتنگ کےحکم پرمتاثرین کورضاکاروں کےپتے اورریل گاڑی کاٹکٹ فراہم کردیاگیا۔ اس طرح کچھ دنوں میں تانگ شان کےمتاثرین پورے چین کےمہمان بن گئے اور4لاکھ سے زائد خاندان اپنے ملک میں ہی آبادہوگئےاورساتھ ہی ماؤ  نےیہ اعلان بھی کیاکہ رضاکارمتاثرہ خاندانوں کوصرف رہائش دیں گے باقی متاثرہ خاندان کےمرد اورعورت خود محنت کرکےکھائیں گے۔ اس عمل سے تانگ شان کےلوگوں کودوفائدے ہوئے۔ ایک یہ کہ ان کےرشتےدارجوانتقال کرگئےتھے ان کاغم بھولتے گئے اورمصروف ہوگئے اورایک نارمل زندگی گزارنے لگے۔دوسرافائدہ یہ ہواکہ تانگ شان کےجتنےہنرمند لوگ تھے انہوں نےملک کی ترقی میں اپناحصہ ڈالناشروع کیا،ان کی مہارتوں میں اضافہ ہوتاگیا،اس کےعلاوہ وہ کسی کےمحتاج نہ ہوئے۔پورےملک میں کہیں بھی کوئی خیمہ بستی اورمتاثرین کیمپ قائم نہیں ہوا۔ ان لوگوں کےلیےامریکی میڈیانےپہلی مرتبہ انٹرنلی ڈسپلیسڈ پیپل یعنی آئی ڈی پیزکالفظ استعمال کیا۔لیکن چین نے ان لوگوں کوبحال کرکےان آئی ڈی پیز کوچائنیزماڈل فار ری ہیبلی ٹیشن میں تبدیل کردیا۔
   اگراس مثال کوآج ہم متاثرین عطاءآبادکےحوالےسےدیکھیں توہمیں افسوس سےکہناپڑتاہےکہ ایک سال میں ہی ہم اپنی پہچان اوروقارکھوبیٹھےہیں۔ ہمیں اپنے آپ سے سوال کرناہوگا کہ کیایہی ہماری پہچان ہے؟ کیایہی زندگی کامقصدہے؟ کیا یہی ہماری تربیت ہوئی ہے؟ کیاا س کےلیے ہمارے آباؤاجداد نے اعلیٰ مثالیں قائم کی تھیں کہ ان کی اولادبھیک پرلڑتےرہیں؟ کب تک ہم لنگروں کے آگے ایک وقت کےکھانے کےلیےہاتھاپائی کرتے رہیں گے؟ ہم کب تک خیرات لوٹتے رہیں گے؟ کیا ہمیں صرف امدادلینےکےلیے پیداکیاگیاہے؟ کیاہمارے ہنرمند لوگ بھی بےہنرہوگئےہیں؟ ہم کب تک لنگروں کےانتظارمیں زندگی گزارتےرہیں گے؟ کب تک ہمارے تعلیم یافتہ اورہنرمندلوگ امداد کےلیے قطاروں میں لڑتےرہیں گے؟ کب تک بازاروں میں لوگوں کےلیے تماشہ بنےرہیں گے؟ کب تک حکومت کوبرابھلاکہتے رہیں گے؟ کب تک علم دوستی کاثبوت سرکاری اورغیرسرکاری اسکولوں پرقبضہ جماکردیں گے؟ کب تک ہم اپنی عزت کی پگڑی اچھالتے رہیں گے؟ کب تک ہمارے محنتی اورجفاکش لوگ ہاتھوں پرہاتھ دہرے امداد کےانتظارمیں کھڑےرہیں گے؟؟
   نہیں۔۔ہمیں اپنےآپ کوبحال کرناہے۔ا پنے ہنرکوزندہ رکھناہے۔ہمیں اپنی پہچان کوزندہ رکھناہے۔ہمیں اپنے آباؤاجداد کےمیراث کوزندہ رکھناہے۔ ہمیں اپنی خودی کاجگانا ہوگا۔ ہمیں اپنے پوٹینشل اورٹیلنٹ کوبروئےکارلاناہوگا۔ کیوں کہ قوموں کا پوٹینشل اورٹیلنٹ کااندازہ مصیبتوں، آفتوں اورسانحات میں ہوتاہے۔۔
سلطان خان



3 comments:

  1. i agree with you that the aid provided to the affectees has created mischief and skirmishes among them. We hear people fighting on aid.Once the spillway is removed, its obvious there will be many broken relations.The mindset of people has changed.I hope our people will uphold our identity and get out of this disaster.
    Irfan

    ReplyDelete
  2. this is impressive piece of writing, and nicely articulated and contextualized.

    Having said that, we should look at the grass half full. Remember the hundreds of volunteers who worked day and night to support each other, the over 100 families who continue to host the IDPs in their houses as guests, the local institutions who continue to work selflessly and on self-help basis to assist in response, relief and reconstruction phases etc.

    However i agree, there are many vested interest groups both local and from outside who have selfish interests in capitalizing on the sufferings of others, and that many of us, the so-called skilled and educated people failed to actually be with the people on ground and help ourselves.

    Everything is not lost. We can still re-group and refocus on the true spirit of 'helping ourselves' through small actions at the local levels, while making the government and elected reps responsive to the needs and rights of the people and delivering on its responsibility.

    ReplyDelete
  3. thank sultan ...kash meri qawm mai ya soch uberta. kash ham apni tarikhi haqiqat ko samajty, kash ham aik hoty, kash mard o zan iss mushkil ghadi mai khandani, ilaqai, or anna ki sarhaddon c nikal kar aik hoty,to ajj ham bekari nahi hoty.
    i realize that how weak we are , how selfish we are , .... when my sister was admitted in private community hospital in Karachi due to brain tumor i came to know the philosophy of these institution and the hell people who run these institution .... who are responsible if we are beggars today ???? who create such situation ???? who are those people and institutions who making money in the name of Atabad disaster ????? who give us plate forum to develop our selves n live with dignity and with honer ????? why our educational process is stoped and start intellectual murder of IDPS ????? how could we can retrieve our history what are the ways ????? why institution create rift and distance b/w people ???? .......
    why so called educated people of Hunza are sleeping what is thr role in this disaster ??? if people became beggars , murderers .... institution and people of hunza are responsible ! .....

    ReplyDelete