Thursday, September 1, 2016

Another 4 nationalists arrested in Gilgit on treason charges



عوامی ایکشن کمیٹی کےچیرمین سمیت 4 اہم رہنما گرفتار،غداری کے الزامات عائد

گلگت: چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبےمیں نمایندگی، اسٹیٹ سبجیکٹ اور دیگرحقوق کےحق میں احتجاج پر عوامی ایکشن کمیٹی کےچیرمین مولانا سلطان رئیس اورکوآرڈی نیٹر فدا حسین سمیت چاروں رہنماوں کو اگلے روز انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کردیا۔ عدالت نے چاروں رہنماوں کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے 11 مطالبات پر مشتمل ایک چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا اور اس پر عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کےلیے گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کا انعقاد کیا تھا۔


عوام ایکشن کمیٹی کے مطالبات میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں مناسب شیئر،خطےکوٹیکس فری زون قراردینا، جنرل سیلز ٹیکس میں گلگت بلتستان کا حصہ، سرکاری ملامتوں میں غیرمقامیوں کا کوٹہ  دو فیصد تک محدود کرنا، منرل  پالیسی 2016 کا خاتمہ، اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی،بلتستان کرگل سرحد کھولنا، براستہ غذرتاجکستان روڈ کی تعمیر شامل ہے۔ان مطالبات کے حق میں عوامی ایکشن کمیٹی گزشتہ ایک سال سے زائد عرصے سے مختلف علاقوں اور خاص طور پر گلگت میں ہڑتال،احتجاجی مظاہروں اور جلسوں کا انعقاد کررہی ہے۔ حال ہی میں انہوں نے گلگت شہر میں ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ اور 26 اگست کو شٹرڈاون ہڑتال کی کال دی تھی اور اگلے مرحلے میں بلتستان میں احتجاجی مظاہروں کے لیے عوامی رابطہ مہم چلانے میں مصروف تھی۔

مطالبات میں کتنا وزن

گلگت بلتستان کے حوالے سے کسی بھی فیصلے کو اس کی متنازعہ حیثیت کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ اگرچہ قوم پرست رہنماوں نے اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کے کیس  پر منفصل روشنی ڈالی ہے اور اس سلسلے میں عوام میں شعور بیدار کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اکثریتی آبادی نے شاید تہیہ کرلیا ہے کہ وہ ان قراردادوں کا نہ خود مطالعہ کریں گے اور نہ ہی قوم پرستوں کے باتوں پر یقین کریں گے۔ انہیں وفاقی حکومتوں اور گلگت بلتستان میں بننے والی کٹ پتلی حکومتوں پر زیادہ یقین ہے، اس لیے تجویز ہے کہ اس مسئلے کوان ہی کے "اصولی موقف" کے تناظر میں دیکھا جائے تاکہ "باشعور" عوام کوسمجھ میں آجائے اور ان کی غلط فہمیاں اور خوش فہمیاں دورہوں۔ 

وفاقی حکومت  کئی مرتبہ دہرا چکی ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کے آئین کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا کیوں کہ مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ہے جس سے متعلق پاکستان نے اقوام متحدہ ایک اصول موقف اپنا رکھا ہے، اب اگر وفاق چاہے بھی تو اس موقف سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔ اس سلسلے میں وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید، قمر زمان کائرہ اور دیگر کئی رہنماوں کے بیانات اور عدالتوں میں ان کا موقف رکارڈ پر موجود ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات اسی پس منظرکے گرد گھومتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بہت پاس ہے اور اسی بنیاد پر گلگت بلتستان کو آئین کا حصہ نہیں بنا سکتی  تو پھر انہیں قراردادوں کے تحت یہ بھی یقینی بنائے کہ یہاں غیرمقامیوں کی آباد کاری نہ ہوا، ٹیکسوں کا نفاذ نہ ہو۔ وفاقی حکومت اپنے تئےمتنازعہ علاقوں کےحوالے کسی دوسرے ملک سے معاہدے نہ کرے، یہاں کے علاقے دوسرے ممالک کو تحقے کے طور پر نہ دیں، مقامی سرکاری عہدوں پر غیر مقامیوں اورخاص طور پرپنجابیوں کے بجائے مقامی افراد کو تعینات کیا جائے۔گلگت بلتستان کی سرزمین کے وفاقی حکومت کسی دوسرے ملک سے کسی قسم کو کوئی معاہدہ نہ کرے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ وفاقی حکومت اقوام متحدہ کی قراردادوں کو اپنے مفادات کے تناظرمیں استعمال کررہی ہے۔ اورجہاں فائدہ نہ ہوا ان قرارداردوں کو پیروتلے روند رہی ہے۔ 

بقیہ اگلی قسط میں۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment