Saturday, August 20, 2016

Another nationalist leader jailed under "Anti Terrorism Laws" in GB



ایک اورقوم پرست رہنما کو دہشتگردی کےالزامات لگاکر جیل بھیج دیاگیا
Qayoom Khan (Center) accompanied by Mehboob Ali
Mohammad Wazir Shafi, Safdar Ali and others, in front
of Anti Terrorism Court on Friday
گلگت بلتستان میں ایک اور قوم پرست رہنما کو سیاسی جدوجہد کی پاداش میں بےبنیاد الزامات پر جیل بھیج دیا گیا۔ بالاورستان نیشنل فرنٹ ضلع غذرکے جنرل سیکریٹری قیوم خان کو پہلے انسداد دہشتگردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں ڈال دیا گیا اور پھر فورتھ شیڈول کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کرکے زیر دفعہ 11 ای ای کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
جی بی ٹریبیون کے رابطہ کرنے پران کے بھائی نے بتایا کہ قیوم خان کو پیر کے روز پولیس نے گھر سے حراست میں لیا، اگلے روز انہیں کاہکوچ میں ایس پی آفس لے جایا گیا، ایس پی قیصر کے حکم پر انہیں اگلے روز گلگت میں انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے قیوم خان کےخلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا جس پر انہیں واپس یاسین لاکر ایف آئی آر درج کی گئی جس کے بعد انہیں گھروالوں سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
جمعے کے روز قیوم خان کو دوبارہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شہبازخان کی روبرو پیش کیا گیا۔عدالت میں موجود ایک وکیل نے جی بی ٹریبیون کو بتایا کہ قیوم خان پر فورتھ شیڈول کی خلاف کے دو الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ایک الزام میں کہا گیا ہےکہ وہ ایس پی کی اجازت کے بغیر شندور گئے جبکہ دوسرا الزام ہے کہ خفیہ اہلکاروں نے قیوم خان کی گاڑی غذر ڈسٹرکٹ کی حدود سے باہر دیکھی تھی۔ اپنے دفاع میں قیوم خان نے عدالت میں ایس پی کا اجازت نامہ پیش کیا جس میں انہیں شندورجانے کی اجازت دی گئی تھی۔ دوسرے الزام کےبارےمیں موقف اختیار کیا کہ فورتھ شیڈول میں ان کا نام ہے، گاڑی کا نہیں، گاڑی کوئی بھی کہیں بھی لے جاسکتاہے۔ تاہم عدالت نے قیوم خان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا جس کے بعد انہیں ڈسٹرکٹ جیل گاہکوچ منتقل کردیاگیا۔
الزامات کے دفاع میں موقف اختیار کیا کہ شندور جانے کےلیے ایس پی سے باقاعدہ اجازت لی گئی تھی جس کے دستاویز
واضح رہے یہ وہی معززجج ہیں جنہوں نے بابا جان کوعمرقید کی سزا سنائی تھی۔ بابا جان، طاہرعلی طاہر اوردیگر اسیران کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے گوجال میں پولیس کے ہاتھوں عطاآباد جھیل کے 2 متاثرین کے بہیمانا قتل پراحتجاج کیا تھا۔ یہ جسٹس شہباز خان ہی تھے جنہوں نے جنگ گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان کو 26 سال قید، 13 لاکھ روپے جرمانے اور تمام جائیداد ضبط کرنے کی سزا بھی سنائی تھی۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا تھا جب معروف صحافی حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملے کے بعد جنگ گروپ خفیہ ایجنسیوں کے زیرعتاب تھا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیوم خان کو فورتھ شیڈول میں ڈالنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا یہ قانونی لحاظ سے ناقابل فہم ہے۔ کیونکہ ان کا تعلق جس قوم پرست جماعت سے ہے یا جس جماعت کے پلیٹ فارم سے وہ سیاسی سرگرمیاں سرانجام دیتے رہے ہیں اس پر گلگت بلتستان میں کوئی  پابندی عائد نہیں ہے۔ نہ ہی قیوم خان کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں امن وامان کے مسائل پیدا کرنے کا باعث بنے۔ وہ خدمت گزاری، عوام دوستی، اعلیٰ کردار اور لوگوں میں گھل ملنے والی شخیصیت کے طور پر جانے جاتےہیں۔ ان کی سلجھی ہوئی اور سنجیدہ شخصیت کسی بھی قسم کے شک وشبے سے بالاتر ہے۔ البتہ سمجھ میں آنے والی بات یہ ہے کہ خفیہ ایجنسیاں بی این ایف، خاص طور اس کے سربراہ عبدالحمید خان سے خوش نہیں، خفیہ ایجنسیوں کا الزام ہے کہ عبدالحمید خان  نے بھارت سے ہاتھ ملایا ہوا ہے اور بیلجئم میں رہ کر پاکستان کےخلاف بیانات دیتےہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگرایسی بات تھی تو پھرکارروائی کچھ ایسے لوگوں کے خلاف ہوتی جو مبینہ طور پرعبدالحمید خان سے مالی فوائد حاصل کررہے ہیں اوربڑے بڑے کاروبار قائم کیے ہوئےہیں۔ ایک ماہرقانون کا کہنا تھا کہ قیوم خان پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف گلگت بلتستان میں ہونے والے حالیہ مظاہروں کا ردعمل ہوسکتا ہے۔ تاکہ لوگ خوف کے مارے ان مظاہروں میں شرکت نہ کریں۔ حکومت سمجھتی ہے کہ شاید عوام بھول گئے ہیں کہ پولیس کے ہاتھوں ہنزہ عطا آباد جھیل کے متاثرین کے قتل کے خلاف مظاہروں پر بابا جان اور دیگر 7 افراد کے خلاف جو کارروائی کی گئی تھی اسے دہرایا جاسکتا ہے۔
قیوم خان نے گزشتہ سال گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا۔ تاہم حکومت کے اسٹیبلشمنٹ کے اوچھے ہتھکنڈوں کے باعث انہیں الیکشن سے دو دن پہلے مہم ترک کرکے بائیکاٹ کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ بائیکاٹ کو انہوں نے اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف احتجاج قرار دیا تھا تاہم یہ امر قابل غور ہے کہ علاقائی الیکشن کمیشن نے آخری لمحات میں ان کی انتخابی علامت مارخورکوالیکشن علامات کی فہرست سےیہ کہہ کر نکال دیا تھا کہ مارخور گلگت بلتستان اسکاوٹس کی بھی علامت ہے۔ الیکشن کمیشن نے حکمران مسلم لیگ ن کی انتخابی علامت شیر پر کبھی اعتراض نہیں کیا جو پاکستانی فوج کی علامت ہے۔
ان الیکشنزسے چند روزقبل گلگت بلتستان کی آزادی کے ہیرو کرنل حسن خان کے فرزند کرنل نادر حسن ، بی این ایف کے رہنما صفدرعلی سمیت کئی افراد کوگرفتارکرکے ان پرانسداد دہشت گردی کےمقدمات قائم کیےگئے۔ انہیں پاک چین اقتصاددی راہداری منصوبے کےخلاف اقوام متحدہ کے دفتر میں یادداشت جمع کرنے سے روک دیا گیا۔ پولیس نے جنگ آزادی کے ہیرو کے فرزند پراقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا۔ کرنل نادر اور دیگر رہنماوں کو چھ ماہ جوٹیال میں قائم ایک سب جیل میں رکھنے کے بعد گزشتہ سال نومبر میں ضمانت پر رہا کیاگیا۔
حکومت کے اس رویے سےیہ تاثرعوام میں ابھررہا ہے کہ وفاقی اسٹیبلشمنٹ مقامی آبادی کو دیوارسے لگا کرغیرمقامیوں کوان پر مسلط کرنے کے لیےاوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہےتاکہ متنازع خطےکےحوالے سےاپنے من پسند نتائج حاصل کرسکے۔ یہ رویہ حکومت پاکستان کے اس موقف کی مکمل نفی ہے جو اس نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ میں اپنائی ہوئی ہے اور اسے بنیاد بناکر بھارتی زیرقبضہ جموں وکشمیر میں سیاسی اور عسکری سرگرمیوں کی مبینہ طورپر پشت پناہی کررہی ہے۔ اس سے مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کو نہ صرف سپورٹ مل رہی ہے بلکہ ان کا مسئلہ عالمی طور پر اجاگر ہورہا ہے لیکن گلگت بلتستان میں روا رکھے جانے والے مظالم پرکوئی بولنا ہوا نہیں جس سے مظلوموں کی آواز دب کر رہ گئی ہے۔

No comments:

Post a Comment