Sunday, November 1, 2015

From November 1947 to November 2015--- A Journey of slavery

یوم آزادی کے حوالے سے خصوصی اشاعت
تحریر: عبدالحمیدخان
یکم نومبر1947 کو غلامی کے دوسرے دورکا آغاز ہواتھا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس وقت کے کارروان آزادی کو یہ علم نہیں تھا کہ ان کا اٹھایا ہوا یہ قدم انہیں آزادی کی منزل سے کتنا دور لے جارہا تھا۔ آج یکم نومبر 2015 کو بالاورستان کے لوگوں کے لیے آزادی کی خواہش رکھنا اور برابری کا حق مانگنا ہی کتنا مشکل ہوگیا ہے، آج اس غلام دھرتی میں بہت سے لوگوں نے اسے اپنا پیشہ بنایا ہے کہ غلامی کو ہی آزادی کہہ کر اپنا گزر بسر کریں اور قوم کی آزادی کی بات کرنے والوں کے خلاف ہر سازش کا حصہ بننا ہی اپنا فرض سمجے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کی کوئی بیٹی یا بیٹا، جس کا تعلق کسی بھی سیاسی یا مذہبی جماعت سے ہو، پنجابی پٹھان کی اجارہ داری سے خوش  نہیں، یہی وجہ ہے کہ آج گلگت بتلستان اور چترال کا ہر شخص اس طرز غلامی سے بیزار ہوکر کوئی اور مطالبہ کررہا ہے۔ وکلا ہوں یا سیاست دان یا سول سوسائٹی یا مذہبی شخصیت، کوئی بھی  موجودہ نظام غلامی کو جاری رکھنا نہیں چاہتا۔
آزادی اور خود مختاری تو دور کی بات ہمارے سول اور فوجی ملازمین کو دیکھ لیں، ان پر پاکستانی بھروسہ نہیں کرتے اور انہیں ماتحت رکھنے میں ہی عافیت سمجھی جاتی ہے۔ نام نہاد عدلیہ ہو یا پولیس ہو، ایجوکیشن ،ایڈمنسٹریشن ہو یا سیکیورٹی ایجنسیاں،ہر ایک میں باہر کے لوگ ہی حکم چلاتے ہیں۔  گلگت  بلتستان کے لوگ جی حضور کے علاوہ  کچھ نہیں کہہ سکتے۔

 2009 کے فراڈ پیکج کو دیکھ لیں۔ بی این ایف نے تواسی وقت ہی قوم کو آگاہ کیا تھا کہ زرداری کے پیکج سے گلگلت بلتستان کو کچھ ملنے کے بجائے یہاں پہلے کے موجود اختیارات بھی چھن جائیں گے، اس سے صرف پاکستانیوں کو ہی مزید اختیارات ملیں گے۔ ہمارے بیانات دیکھ لیں، میرا لندن میں ہاوس آف لارڈز میں دیا ہوا بیان پڑھ لیں اور پیکج کے بعد کے حالات پر غور کریں۔ پیکج کے بعد پاکستان نے اپنی انٹیلی جنس ایجنسی کی تعداد کو بڑھا کر 22 کر دیا اور ہر گھر میں ایک ایجنٹ پیدا کردیا جس کا اعتراف اس وقت کے نام نہاد وزیراعلیٰ مہدی شاہ نے کیا تھا اور کہا تھا کہ سیاسی لوگوں کے بھی آئی ایس آئی کے ایجنٹ ہیں۔ بعد میں ایک نگران وزیر نے کہا تھا کہ  انہیں آئی ایس آئی اور ایف سی این اے نے وزیر بنایا ہے۔ زرداری پیکج کے بعد تو پولیس میں چھوٹے عہدوں پر بھی مقامی پولیس پر بھروسہ نہیں رہا۔ اس کے بعد ڈی ایس پی  اور اے سی بھی پنجابی آرہے ہیں۔
کیا یکم نومبر 1947 کے سادہ لوح کارروان آزادی کو یہ علم تھا۔ کیا کرنل احسان، کرنل حسن خان، صوبیدار میجر بابر خان اور دوسرے کارروان سفر کو یہ علم تھا کہ وہ کس قسم کی غلامی کی طرف اپنی آیندہ کی نسل کو لے جا رہے ہیں۔ وہ تو پرانے زمانے کے سادہ لوگ تھے جنہوں نے پاکستانیوں سے دھوکہ کھایا۔ انہیں کیا علم تھا کہ مہاراجہ کی غلامی سے نکل کر انہیں پنجابی پٹھان کی نئی  غلامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اور تو اور کرنل حسن کو کیا علم تھا کہ ان کے بچوں کو پاکستان کی قسم کی سزا دی جائے گی۔ انہیں گالیاں دی جائیں گی،پنجابی پولیس والے اور آئی ایس آئی والے انہیں ٹارچر کریں گے۔ ہمیں یکم نومبر سے 15 نومبر تک مختصر آزادی پر خوش ہونے کے بجائے 16 نومبر 1947 سے جاری اس طویل غلامی پر غور کرنا چاہیے اور رونے کے بجائے اس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لیے ہمت اور جرات سے آگے بڑھنا چاہیے۔
مہاراجہ نے تو ہماری ثقافت اور وسائل کو غضب ہونے سے بچانے کے لیے اسٹیٹ سبجیکٹ رول نافذ کیا تاکہ غیر مقامی  گلگت بلتستان اور کشمیر میں جائیداد پر قبضے کرکے اور پھر گلگت بلتستان کے ڈومیسائل کی بیناد پر ان علاقوں کے کوٹے کی نوکریاں ہڑپ نہ کر پائیں۔ گلگت  بلتستان اور آزاد کشمیر کے وسائل اور ثقافت کو 1927 سے اسٹیٹ سبجیکٹ رول  کے تحت تحفظ دیا۔ آزاد کشمیر میں آج بھی کسی حد تک 60 فیصد  اور مقبوضہ کشمیر میں 100 فیصد اسٹیٹ سبجیکٹ رول پر عمل ہورہا ہے۔ جبکہ گلگت بلتستان میں اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی سو فیصد خلاف ورزی ہورہی ہے۔ گلگت بلتستان میں اسٹیٹ سبجیکٹ رول کے بارے میں کیا بات کریں گلگت بلتستان تو سارا کا سارا پاکستان پہلے خود لوٹتا رہا اب تو اس نے اقتصادی راہداری  کے نام پر خفیہ طور پر چین کے حوالے کیا ہے۔اور جو بھی اس نام نہاد راہداری کے خلاف بات کرتا ہے اسے غدار کہہ کر دہشت گردی کورٹ میں گھسیٹا جارہا ہے اور ان پر غداری کے الزامات لگائے جارہے ہیں جبکہ پاکستانی آشیرباد سے دہشت گردی کرنے والے دہشت گردوں کو مکمل آزادی ہے وہ جب چاہیں جہاں چاہیں کسی بھی وقت قراقرم ہائی وے پر چلنی والے گلگت بلتستان کے لوگوں کا خون بہاسکتے ہیں۔ حکومت ان کے ساتھ ہے، البتہ چینی ورکرز، پاکستانی شہریوں اور فوج کے کرنلوں کو نشانہ بنانے والے  دہشت گردووں کو پکڑنے میں دیر نہیں لگائی جاتی،یہاں تک کہ جو دہشت گرد گرفتار ہوتے ہیں انہیں بھی پاکستانی ایجنسیاں نکال کر بھگا لیتی ہیں۔ گلگت بلتستان کے انسانوں کے قاتلوں کو کھلی چھٹی ہے۔
ہمارا پڑوسی ملک چین پڑوسی کے حقوق  کا خیال رکھنے کی بجائے ہمارے حقوق کو غضب کرنے میں بہت تیزی سے کام کررہا ہے ۔ چین نہ صرف یہاں سے سونا اور کاپر لے جارہا ہے بلکہ یہاں کی جنگلی حیات بھی لوٹ رہاہے۔
پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیوں کا کارنامہ دیکھیں ان کا کام گلگت بلتستان کے لوگوں کو سیکیورٹی کے نام پر خوفزدہ کرنا ہی رہ گیا ہے۔ ان کی پالیسی ہے کہ جو بھی اپنے حق کی بات کرے انہیں ڈراؤ ، انہیں معاشی طور پر غریب بناؤ اور دھمکیاں دو، پھر بھی باز نہ آئیں تو ٹارچر کرو اور قتل کرو۔ گلگت بلتستان میں قائم نام نہاد انسداد دہشت گردی عدالت سے اسے عمر قید یا سزائے موت دینا ہے تاکہ لوگ خوف کے مارے نہ پاکستانی غلامی کی بات کریں  اور گلگت بلتستان کو چین کے حوالے کرنے پر کوئی آواز اٹھا سکے۔

آج یکم نومبر 2015 کو گلگت بلتستان کےعوام کو خوش ہونے کے بجائے غم زدہ ہونا چاہیے کیونکہ ہماری شناخت، ہماری آزادی سب کچھ چھین لی گئی ہے۔ دیامر کے لوگوں کو دیکھ لیجیے کہ ان کے اباواجداد  کی قبروں کو بھی تباہ کرکے پاکستانی انہیں حق دینے اور برابر کے انسان تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ پانی پر گلگت بلتستان کے لوگوں کا نہیں پاکستانیوں اور دوسرے غیرملکیوں کا قبضہ ہے۔ جب تک بالاورستان کے لوگوں کو دنیا کی دوسری اقوام کی طرح آزادی نہیں ملے گی ذلت اور غلامی کے خلاف آواز اٹھانا ہمارے سیاسی اور مذہبی فریضہ بھی ہے اور دنیاوی ضرورت بھی۔ 

No comments:

Post a Comment