Saturday, December 27, 2014

Nationalist Leader Haider Shah Rizvi hospitalized

معروف قوم پرست رہنما سید حیدر شاہ رضوی علالت کےباعث اسپتال داخل

کراچی: گلگت بلتستان کے معروف قوم پرست رہنما سید حیدر شاہ رضوی کو علالت کے باعث اسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔ حیدر شاہ رضوی گزشتہ کئی ماہ سے پھپھڑوں کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ اسکردو میں کئی ہفتے زیر علاج رہنے کے بعد گزشتہ ماہ وہ کراچی منتقل ہوگئے ہیں اور لیاقت نیشنل اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق حیدر شاہ رضوی کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ان کی صحت بتدریج بہتر ہورہی ہے۔
حیدر شاہ رضوی کی خیریت دریافت کرنے بڑی تعداد میں گلگت بلتستان کے باسیوں نے اسپتال کا رخ کرلیا۔ ملاقات کرنے والوں میں طلبا پیش پیش ہیں۔ کراچی میں مقیم طلبا نہ صرف حیدر شاہ رضوی کے لیے خون کے عطیات دے رہے ہیں بلکہ علاج کے مہنگے اخراجات پورے کرنے کےلیے چندہ مہم بھی چلارہے ہیں۔ تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود اخراجات پورے کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کی وجہ سے علاج معالجے کے معاملات بھی متاثر ہورہے ہیں۔
سید حیدر شاہ رضوی اپنے قوم پرست نظریات اور تحریروں کی بدولت عوام اور طلبا برادری میں یکساں طور پر مقبول ہیں۔ وہ کئی سیاسی پلیٹ فارمز سے اپنے نظریات کی ترویج اور لوگوں میں شعور بیدار کی سہی کرتے رہے ہیں۔ ان کی تحریریں گلگت بلتستان کے اخبارات، جرائد اور بلاگز کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ لیاقت نیشنل اسپتال میں علاج کے دوران بھی انہوں نے ایک نظم تحریر کیا ہے۔ جسے ان دنوں سوشل میڈیا پر زبردست سراہا جارہا ہے۔ اپنے سیاسی سفر میں وہ مستقبل کے معمر طلبا برادری سے انتہائی قریب رابطہ رکھے ہوئے ہیں، یہی وجہ سے آج ان کی تیمارداری میں طلبا پیش پیش نظر آتے ہیں۔

 حیدر شاہ رضوی طویل عرصے سے بالاورستان نیشنل فرنٹ سے وابستہ رہے ہیں۔ تنظیم میں دھڑے بندیوں کے باعث قوم پرست رہنما جس مایوسی کا شکار ہوئے ہیں اس کی تازہ مثال حیدر شاہ رضوی کی دی جاسکتی ہے۔ حیدر شاہ رضوی کی تیمارداری کرنے والے کئی طلبا نے اس حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں اور سوشل میڈیا پر بحث ہورہی ہے جس میں قوم پرست تنظیموں سے مایوسی کا پہلو کھل کر سامنے آرہا ہے۔ ہمیں امید ہے بالاوستان نیشنل فرنٹ حیدر شاہ رضوی کے علاج معالجے کے حوالے سے اپنا بنیادی کردار ادا کرے گی اور قوم پرست رہنماوں اور طلبا کے خدشات دور کرے گی ورنہ نئی نسل قوم پرستی کا نام سننے سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور ہوجائے گی۔

No comments:

Post a Comment