Sunday, December 29, 2013

Two leading personalities of GB targeted in Sindh

سندھ میں ہفتے کوگلگت بلتستان سے تعلق رکھنےوالی دواہم شخصیات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، ایک کوشش کامیاب رہی جبکہ دوسری ناکم رہی۔

میجرریٹائرڈ جہانگیر اخترقتل
سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے میجر ریٹائر جہانگیر اختر کو 4 ساتھیوں سمیت قتل کردیا
Jam Tamachi Lake at Kanjhar Lake, Thatta where
five people were shot dead
گیا۔ تفصیلات کے مطابق ٹھٹھہ میں کینجھرجیل کےقریب نوری جام تماچی مزار پر میجرریٹائرڈ جہانگیر اختر اور ان کے دیگر چار ساتھیوں کی لاشیں ملی ہیں۔ پانچوں افراد کو کپٹی کے بائیں جانب گولیاں ماری گئیں۔ خاندانی ذرائع کے مطابق جہانگیر اختر اپنے دوستوں کے ہمراہ کینجھر جھیل پر ویک اینڈ منانے گئے تھے۔ وہ ہفتے کی صبح گھر سے نکلے تھے اور جاتے ہوئے وہ اپنا موبائل گھر پر بھول گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق جہانگیر اخترکا تعلق فوجی گھرانے سے ہے وہ نیوی میں کمانڈر رہ چکے ہیں جبکہ ان کے دیگربھائی بھی نیوی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق مقتولین میں شامل ریٹائرڈ کیپٹن بلال کا تعلق راولپنڈی جبکہ دیگر تین افراد عدنان سعید، محمد علی اور سہیل احمد کا تعلق کراچی سے ہے۔
پولیس نے ٹھٹھہ میں دو ملاحوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ زیر حراست ایک ملاح کا کہنا ہے کہ پانچوں افراد کراچی سے ہفتے کی شام کینجھر جھیل پہنچے تھے، انہوں نے تمام افراد کو نوری جام تماچی کے مزار پر چھوڑا۔ مسافروں نے کشتی بان سے کہا کہ وہ فون کریں تو  لینے آجائے، فون نہ آیا تو اندھیرا چھانے پر وہ خود ہی مسافروں کو لینے پہنچا   جہاں مقتولین کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔ قاتل گولیوں کےخول بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ تاہم مقتول کی کوئی چیز نہیں اٹھائی۔ پولیس کے مطابق جائے وقوع سے ایک پستول برآمد ہوئی ہے۔

علامہ مرزا یوسف حسین پرقاتلانہ حملہ
کراچی میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالم دین علامہ مرزیوسف حسین قاتلانہ حملے میں بال بال بچ
گئے۔ علامہ یوسف مرزا کی گاڑی پر کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں فائرنگ کی گئی۔ حملے میں علامہ مرزا یوسف کاایک سیکیورٹی گارڈ اور ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے۔ حملے کے بعدعلامہ مرزایوسف نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔ اس سے قبل ان کے بیٹے کو بھی قتل کیا جاچکا ہے۔

No comments:

Post a Comment