Saturday, December 28, 2013

Pakistan's occupation of GB land illegal: Nationalists

گلگت بلتستان کے قوم پرستوں نے دیامر بھاشا ڈیم کی زد میں آنے والی اراضی پر وفاقی حکومت کے براہ راست کنٹرول کی مخالفت کردی
وفاق کا فیصلہ متنازع خطے پرقبضے کی کوشش ہے،منظورپروانہ
حکومت پاکستان خطے میں متنازع اقدامات سےگریزکرے،صفدرعلی

 گلگت بلتستان یونائیٹڈ موومنٹ کے سربراہ منظور پروانہ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی سرحدوں پر خیبرپختونخوا کا قبضہ اور دعویٰ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے کیونکہ گلگت بلتستان ایک متنازع خطہ ہے ،تنازعے کے حل سے پہلے ہی گلگت بلتستان کی جغرافیائی خدوخال میں تبدیلی یہاں کے عوام کو بےسروسامان کرنےکی کوشش ہے۔ اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ  اقوام متحدہ خیبرپختونخوا اورگلگت بلستان کے درمیان دیامر سرحدی تنازع کا نوٹس لیتے ہوئے گلگت بلتستان کی سرحد پر خیبرپختونخوا حکومت کی جابرانہ قبضے کی کوشش کوناکام بنانے کےلیے اپنا کردار اداکرے
وفاقی حکومت کی قائم کردہ باونڈری کمیشن غیرشفاف اور جابندارانہ ہےجو دیامر کے عوام کو اپنی ملکیتی اراضی سے محروم کردےگی۔
بالاورستان نیشنل فرنٹ کے رہنما صفدر علی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے دیامر بھاشاڈیم کے پاس متنازعہ علاقے کو اپنے قبضے میں لیناغیرقانونی ہے۔ وفاقی حکومت اس قسم کے اقدامات سے اپنے ہی اصولوں سےانحراف کررہی ہے دیامر ڈیم کا تنازع مقامی نہیں یہ بین الاقوامی سرحدی تنازع ہے جس طرح غیرقانونی طورپر کوہستان پر پاکستان کا قبضہ بین الاقوامی اصولوں کی منافی ہے اسی طرح نیا کھڑاکیاگیا تنازع بھی بین الاقوامی اصولوں کےخلاف ہے۔ مرکزی رہنما بی این ایف صفدرعلی نے کہا کہ اس جگہ 1930 میں میجر گنگھم کی سربراہی میں دمامر ڈیم کی فزیبلٹی بنائی گئی تھی لیکن بوجوہ یہ ڈیم نہ بن سکا پاکستان بننے کےبعد حکومت پاکستان کی جانب سے اس ڈیم پر کام کا آغاز ہوا جہ کہ ہنوزجاری
ہم سمجھتے ہیں کہ سازین تک کا علاقہ 60 کی دہائی تک تحصیل چلاس میں شامل تھا جس کو ایک سازش کے ذریعے کوہستان کے ساتھ ملایا گیا آج کوہستان اور گلگت بلتستان کو لڑانے کی سازش ہورہی ہے جس کی ہم بھرپورمذمت کرتےہیں اور اس مسئلے کو عالمی عدالت انصاف میں اٹھائیں گے۔حکومت پاکستان خظے میںمتنازع اقدامات سےگریزکرے

۔

No comments:

Post a Comment