Monday, December 23, 2013

Nationalists express anger over federation's decision of taking over GB land



گلگت بلتستان کےایک ہزارایکڑسے زائد رقبےپروفاق کے قبضےخلاف قوم پرست جماعتوں کا سخت رد عمل
وفاق کے انتہائی متنازع یک طرفہ فیصلے پر گلگت بلتستان کی کٹ پتلی حکومت مکمل خاموش
قوم پرست جماعتوں نے حکومت پاکستان کےخلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا
گلگت بلتستان متنازع خطہ ہے۔پاکستان ناجائزقبضے سےبازرہے
بھاشاڈیم کی آڑپرگلگت بلتستان کوہڈپ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے

گلگت بلتستان کی قوم پریت جماعتوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے دیامر بھاشاڈیم کی آڑ میں خطے کی اراضی پر ناجائز قبضے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں وفاقی وزیرامورکشمیر برجیس طاہر کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا تھا جس میں دیامر بھاشا  ڈیم کی زد میں آنے والی 12 سو ایکڑ اراضی کو وفاق کے کنٹرول میں دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اور اس سلسلے میں چیف سیکریٹری کو گلگت بلتستان کا نمائندہ مقرر کیا گیا تھا۔
اس فیصلے کے خلاف قوم پرستوں نے ابتدائی طورپر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کافیصلہ کرلیا ہے،اس حوالے سے قانونی ماہرین کے ساتھ صلح مشورے شروع کردیے گئے ہیں۔ قوم پرستوں نے اگلے مرحلے میں عالمی ادارہ انصاف سےرابطہ کرنے کی حکمت عملی بھی طے کی ہے۔
قوم پرستوں نے ضلع دیامر اور کوہستان کے مابین سرحدی تنازعے کے حل کےلیے وفاقی حکومت کی تشکیل کردہ کمیشن پر بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے 1970 سے قبل گلگت بلتستان کی سرحدی حدبندی سازین تک تھی مگر سازشوں کے تحت اس وقت کے حکمرانوں نےکوہستان سے لے کر سازین تک خیبرپختونخوا میں شامل کر لیا ہے اور اب دیامر ڈیم کی تعمیر اور رائیلٹی کے حصول کے لیے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی جارہی ہے اورگلگت بلتستان کے علاقے پرملکیت ظاہر کرنےکی کوشش کی جارہی ہے جو ملکی و بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ 
قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان متنازع خطہ ہے۔ حکومت پاکستان ایک طرف اس کی متنازع حیثیت کو تسلیم کررہی ہے اور دوسری طرف مختلف ہتھکنڑوں سے علاقے کو ہتھیانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔گلگت بلتستان پر ناجائز قبضے کی کوششوں کو عوام برداشت نہیں کریں گے

No comments:

Post a Comment