Saturday, December 21, 2013

Federal government decides to illegally grab more than 1000 acre of land from disputed Gilgit Baltistan



حکومت پاکستان نےدیامربھاشاڈیم کی آڑمیں متنازع گلگت بلتستان کی ایک ہزارایکڑسے زائد رقبے پرناجائز قبضےکا فیصلہ کرلیا

دیامربھاشاڈیم میں زیرآب آنےوالی متنازع خطےکی زمیں پرقبضےکافیصلہ اعلیٰ سطح اجلاس میں کیاگیا

اجلاس میں گلگت بلتستان کاکوئی مقامی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔ گلگت بلتستان کی نمائندگی پنجاب سےتعلق رکھنےوالےچیف سیکریٹری نےکی

اسلام آباد: ضلع دیامر اور کوہستان کی حدود کے تنازع کے حل کےلیے وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان میں اعلیٰ سطح کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیرامورکشمیر چودھری برجیس طاہر نے کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیراطلاعات ونشریات سینیٹرپرویزرشید،وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیربین الصوبائی رابطہ کارریاض حسین پیرزادہ،سیکریٹری امور کشمیر و گلگت بلتستان شاہد اللہ بیگ، چیف سیکریٹری گلگت بلتستان یونس ڈھاگا، چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہزادہ ارباب، چیرمین  واپڈا اوردیگر نے شرکت کی۔
اجلاس میں گلگت بلتستان کےضلع دیامر اور خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان کی متنازعہ زمین وفاق کےسپرد کرنے اور تنازعے کے حل کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں جوڈیشنل کمیشن بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ بصری چیک پوسٹ سے لے کر بھاشا تک کی 12 سو ایکڑ زمین پر وفاق سیکیورٹی فورسز تعینات ہوں گی اور جو جوڈیشل کمیشن بنے گا وہ تمام قانونی اور تاریخی پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے اراضی کے تنازعے کا فیصلہ کرےگا۔ جوڈیشل کمیشن کی سربراہی کرنے والے جج کا تعلق نہ خیبر پخنخوا سے ہوگا نہ گلگت بلتستان سے، بلکہ کسی اور صوبے کے جج کو کمیشن کا سربراہ بنایاجائےگا
اجلاس میں گلگت بلتستان کی نمائندگی چیف سیکریٹری یونس ڈھاگا نے کی اور انہوں نے دیامر بھاشا ڈیم پر گلگت بلتستان کا موقف پیش کیا۔ واضح رہے کہ یونس ڈھاکا کا تعلق پنجاب سے ہے اور انہیں وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں تعینات کیا ہوا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق اجلاس انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوا جس میں تمام قانونی اور تاریخی پہلوؤں پر بریفنگ دی گئی۔
مقامی آبادی نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پورے گلگت بلتستان کو ہڑپ کرنے کی سازش قرار دےدیا۔ اس سلسلسےمیں کراچی میں مقیم گلگت بلتستان کی طلبا تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں آنے والے دنوں میں شدید احتجاج کا ارادہ رکھتی ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے حوالےسے اقوام متحدہ میں اپنائے گئےاپنے موقف سے انحراف کا ارتکاب کرچکا ہے۔ اس سے قبل چین کی سرحد سے متصل گلگت بلتستان کا ایک بڑا حصہ چین کے حوالے کردیا گیا، شناکی کوہستان کا وسیع علاقہ خیبرپختونخوا کے قبضے میں دےدیا گیا۔ ادھر خیبرپختونخوا نے  چترال کے راستے شندور پر ناجائز قبضے کے بعد اپنے توسیعی عزائم پھنڈر کے اندر تک بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا۔ چند سال قبل ضلع غذر میں پاسپورٹ کا اجراء یہ کہہ کر روک دیا گیا تھا کہ یہ علاقہ غلطی سے چترال کے ساتھ منسلک کیا گیا جو صوبہ خیبر پختونخوا کے تحویل میں جاچکا ہے۔
 ماضی قریب کا سب سے بھیانک اور علاقہ دشمن فیصلہ تاجکستان روڈ کا طے شدہ منصوبہ تھا جسے آخری مرحلے میں تبدیل کرکے خیبرپختونخوامیں بچھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جی بی ٹریبیون مانیٹرنگ

No comments:

Post a Comment