Friday, February 15, 2013

Pakistan emerged as third deadliest country for journalists

’صحافیوں کے قتل،گرفتاری کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ‘

صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی امریکی شہر نیو یارک میں قائم عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی نئی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال فرائض کی انجام دہی کے دوران دنیا میں ستر رپورٹرز ہلاک ہوئے جبکہ دو سو تیس سے زیادہ صحافیوں کو جیل بھیجا گیا۔

اس رپورٹ کے مطابق دنیا میں صحافیوں کے قتل اور گرفتاری کے واقعات میں پچھلے سال کے دوران اتنا اضافہ ہوا ہے کہ جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

نیویارک میں قائم تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے دنیا میں صحافیوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کا تعین کرنے کے لیے رسک لسٹ یا خطرے کی فہرست بھی شائع کی ہے جس میں دنیا کے ان دس ملکوں یا خطوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں سال 2012 کے دوران صحافت کی آزادی کے ضمن میں سب سے زیادہ گراوٹ کے رجحان پائے گئے ہیں۔

اس فہرست میں پاکستان بھی شامل ہے۔

تنظیم کے مطابق پچھلے ایک عشرے کے دوران پاکستان میں 19 صحافیوں کے قتل کے مقدمات اب تک حل نہیں ہوسکے۔

تنظیم نے ایسے ملکوں کی فہرست میں جہاں صحافیوں کو سزا کے خوف کے بغیر قتل کیا جارہا ہے، پاکستان کو دسویں نمبر پر رکھا ہے۔(جبکہ 2012 میں صحافیوں کےقتل کےحوالےسےپاکستان تیسرےنمبرپرہے۔)

تنظیم کا کہنا ہے کہ دنیا میں پاکستان، صومالیہ اور برازیل ایسے ممالک ہیں جہاں صحافیوں کے قتل کی شرح زیادہ ہے اور قاتل بھی سزا کے خوف سے آزاد مورچہ بند ہیں۔

اسکے علاوہ ایکواڈور، ترکی اور روس اپنے ملکوں میں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے امتناعی قوانین کا استعمال کررہے ہیں۔

تنظیم کے مطابق آزادی صحافت کی گراوٹ کا تیسرا رجحان ایتھوپیا، ترکی، ویت نام، ایران اور شام میں پایا گیا ہے جس کے تحت ان ملکوں میں تنقیدی رپورٹنگ کو روکنے کے لیے صحافیوں کی بڑی تعداد کو ریاست مخالف الزامات کے تحت قید کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں صحافیوں کے ہلاک ہونے کی شرح بڑی حد تک بڑھ گئی ہے جہاں صحافیوں کو تنازعے کے تمام فریقوں کی جانب سے کئی طرح کے خطرات کا سامنا ہے۔

تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کئی صحافی شام کے جنگ زدہ علاقوں میں کام کررہے تھے لیکن ایسے صحافیوں کی اکثریت ان مقامی رپورٹروں کی ہے جنہیں جرائم اور کرپشن پر خبریں دینے پر قتل کیا گیا۔

تنظیم کہتی ہے کہ ان صحافیوں کو سزا کے خوف کے بغیر مارا گیا یعنی مارنے والوں کو یہ ڈر نہیں تھا کہ انہیں پکڑا جاسکے گا یا سزا مل سکے گی جس کی وجہ سے صحافت کی آزادی سخت خطرے سے دوچار ہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کہتی ہے کہ پاکستان صحافیوں کے لیے دنیا کا تیسرا سب سے جان لیوا ملک ہے جہاں صرف 2012 کے دوران سات صحافی ہلاک ہوئے۔ ان میں پانچ صحافی کو ہدف بناکر قتل کیا گیا اور ان پانچوں میں سے بھی چار کو بلوچستان میں مارا گیا ہے جہاں تنظیم کے بقول صحافی علحیدگی پسند گروہوں اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے درمیان پھنس کے رہ گئے ہیں۔

تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ تشدد اور سزا کا خوف نہ ہونے کے رجحان کی وجہ سے پچھلے برس 6 پاکستانی صحافیوں نے خودساختہ جلاوطنی اختیار کی اور یہ تعداد 2011 میں جلاوطنی اختیار کرنے والے صحافیوں کے مقابلے میں دوگنی ہے۔ بی بی سی اردو


Deadliest Countries in 2012

خصدارمیں اےآروالی کےرپورٹرصحافی عبدالحق بلوچ کےقتل کےخلاف احتجاج 
1. Syria: 28
2. Somalia: 12
3. Pakistan: 7
4. Brazil: 4
5. India: 2
6. Israel and the Occupied Palestinian Territory: 2
7. Thailand: 1
8. Russia: 1
9. Egypt: 1
10. Nigeria: 1
11. Ecuador: 1
12. Iran: 1
13. Mexico: 1
14. Bangladesh: 1
15. Bahrain: 1
پنجگورمیں دنیانیوزکےرپورٹررحمت اللہ عابدکےقتل کےخلاف احتجاج
16. Colombia: 1
17. Tanzania: 1
18. Cambodia: 1
19. Indonesia: 1
20. Philippines: 1

Pakistan...Journalists Killed in 2012/Motive Confirmed

Saqib Khan, Ummat, November 22, 2012, in Karachi, Pakistan

Rehmatullah Abid, Dunya News TV, Intikhaab, November 18, 2012, in Panjgur, Baluchistan, Pakistan

Mushtaq Khand, Dharti Television Network and Mehran, October 7, 2012, in Khairpur, Pakistan

Abdul Haq Baloch, ARY Television, September 29, 2012, in Khuzdar, Pakistan

Abdul Qadir Hajizai, WASH TV, May 28, 2012, in Quetta, Pakistan

Razzaq Gul, Express News TV, May 19, 2012, in Turbat, Pakistan

Mukarram Khan Aatif, Freelance, January 17, 2012, in Shabqadar, Pakistan

Mohammad Amir , ARY Television, September 21, 2012, in Peshawar, Pakistan

Aurangzeb Tunio, Kawaish Television Network, May 10, 2012, in Lalu Ranwak, Pakistan



No comments:

Post a Comment