Saturday, October 27, 2012

Nationalist leader Ashiq Hussain assissinated in Karachi

گلگت: قوم پرست طالب علم رہنماعاشق حسین کوگلگت میں سپردخاک کردیاگیا،جنازےمیں ہزاروں افرادنےشرکت کی۔عاشق حسین گزشتہ ہفتےکراچی کےعلاقےکیماڑی میں نامعلوم افرادکی فائرنگ سےجاں بحق ہوگئےتھے۔ان کی میت جعرات کوکراچی سےبزریعہ ہوائی جہازراولپنڈی روانہ کردی گئی تھی جہاں سےجمعےکوگلگت پہنچادی گئی۔
عاشق حسین کیماڑی میں واقع ضیاء اسپتال میں ایکسرےڈیپارمنٹ میں ملازم تھے۔بدھ کےروزجب وہ ڈیوٹی ختم کرکےگھرکےلیےروانہ ہوئےتودہشت گردوں نےاسپتال کےقریب ہی انہیں گولیوں کونشانہ بنایا۔انہیں سراورسینےمیں چھ گولیاں لگیں جس سےوہ موقع پرہی جاں بحق ہوگئے۔واقعےکی اطلاع ملنےپرکراچی میں مقیم سینکڑوں افراداسپتال پہنچ گئے۔بعدازاں ان کی میت انچولی میں واقع سردخانےمیں منتقل کردی گئی۔
عاشق حسین کاقتل بظاہرفرقہ وارانہ دہشت گردی کاشاخسانہ لگتاہےتاہم اس حوالےسےحتمی رائےقائم کرناقبل ازقت ہوگا۔
کراچی میں مقیم گلگت بلتستان کےطلباکےلیےعاشق حسین کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔انہوں نےبالاورستان نیشنل اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کےپلیٹ فارم سےطلباکےمسائل کےحل کےلیےنمایاں کرداراداکیا۔عاشق حسین بینادی انسانی وسیاسی حقوق کےحصول اورفرقہ وارانہ منافرت کےخاتمےکےلیے ہمہ وقت سرگرم رہتےتھےاورگلگت بلتستان کےطلباکوایک پلیٹ پراکٹھاکرنےکےلیےبھرپورجہدوجہدکی۔
عاشق حسین کی موت سےکراچی میں مقیم گلگت بلتستان کےطلباایک عظیم طلبہ رہنماسےمحروم ہوگئی ہے۔مختلف سیاسی،سماجی شخصیات اورطلبانےعاشق حسین کی شہاد ت پرگہرےدکھ کااظہارکیاہے۔ 

No comments:

Post a Comment