Sunday, September 2, 2012

Contractors to pursue legal action against government for issuing bounced checks

پانچ ماہ گزرنےکےباوجود باونس چیک کیش نہیں ہوئے،ٹھیکیداروں کاحکومت کےخلاف قانی چارہ جوئی کافیصلہ

مہدی شاہ کےمن پسندٹھیکےداروں کواربوں روپےجاری ہوئے،غذرکےٹھیکےداروں کوفاقہ کشی پرمجبورکیاجارہاہے،یہ بدترین تعصب،ظلم اورمعاشی قتل ہے،ٹھیکےدار

گاہکوچ: ضلع غذرکےٹھیکےداروں نےباونس چیک جاری کرنےپرحکومت گلگت بلتستان کےخلاف قانونی چارہ جوئی کافیصلہ کرلیا۔

محکمہ پی ڈبلیوڈی اوراےجی پی آرنےجون میں ٹھیکےداروں کوان کےمکمل اورزیرتکمیل منصوبوں کی مدمیں 90کروڑروپےکےچیک جاری کیےتھےجن کی نیشنل بینک آف پاکستان نےسرکاری اکاونٹ میں پیسےنہ ہونےپرتاحال ادائیگی نہیں کی۔ چیک باونس ہونےپرٹھیکےداروں نےجولائی میں احتجاج اورعدالت جانےکی دھمکی دی جس پروزیراعلیٰ مہدی شاہ نےعیدالفطرسےپہلےرقم فراہم کرنےکی یقین دہانی کراکےٹھیکیداروں کوخاموش کرادیاتھالیکن تاحال یہ چیک کیش نہ ہوسکے۔ اس دوران ٹھیکیداروں نےکئی دفعہ احتجاجی جلوس بھی نکالےاوروزیراعلیٰ ہاوس کےسامنےدھرنابھی دیاتاہم ان کی شنوائی نہ ہوئی۔ ان تمام کوششوں میں ناکامی کےبعداب ٹھیکیداربرادری نےعدالت جانےکافیصلہ کیاہے۔

متاثرہ ٹھیکےداروں کاکہناہےکہ تمام ترتعاون کےباوجودحکومت ان کےمسائل کوسنجیدگی سےلینےکےلیےتیارنہیں۔ٹھیکےداروں نےاپنی جیبوں سےپیسہ لگاکراسکیموں کوپایہ تکمیل تک پہنچایاتاکہ ترقیاتی منصوبوں کےسلسلےمیں حکمرانوں خاص طورپرمنتخبت نمائندوں کوعوام کےسامنےخفت کاسامنانہ رہےاب جبکہ ان کےپاس اپنےبچوں کودووقت کی روٹی کھلانےکی گنجائش ختم ہوگئی ہےتوحکومت نےمنہ پھیرلیاہےاورمعاملےکومذاق میں ٹال رہی ہے۔ان کاکہناتھاکہ ایک طرف غذرکےٹھیکےداراپنےجائزحق کےلیےدردرکےخاک چھان رہی ہےتودوسری طرف وزیراعلیٰ نےاپنےتین چار من پسندٹھیکیداروں کو ایک ہی دن میں 3ارب روپےجاری کیے۔یہ غذرکےٹھیکےداروں کےساتھ سراسرتعصب،ظلم اوران کامعاشی قتل ہے۔اب ہم خاموش نہیں رہیں گے۔

قانونی ماہرین کےمطابق ٹھیکےداروں کوقانونی چارہ جوئی سےقبل حکومت کونوٹس جاری کرناہوگا۔اس کےاگلےمرحلےمیں زیردستخطی کےخلاف ایف آئی آردرج ہوگی اورپھرعدالت میں کیس کی سماعت شروع ہوگی۔ اگرعدالت نےحکومت کی طرفداری نہیں کی اورانصاف کاتقاضہ پوراکیاتوباونس چیکوں پردستخط کرنےوالےکو تین سال قیداورجرمانےکی سزاہوسکتی ہے۔سزاکےبعدملزم سرکاری عہدےکےلیےنااہلی قرارپاتاہے۔

No comments:

Post a Comment