Saturday, September 1, 2012

Altaf Hussain lauds to end sectrian bloodshed in Gilgit Baltistan

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کےقائدالطاف حسین نےکہاہےکہ ملک میں فرقہ وارانہ قتل عام ہوریاہےحکومت نام کی کوئی چیرنظرنہیں آتی،اگرشہریوں کوتحفظ نہیں دےسکتےتوفوج اورخفیہ ایجنسیوں کوختم کیاجائے،فرقہ وارانہ اورمذہبی قتل وعام جاری رہاتوشعیہ،بریلوی،اہل حدیث اورعیسائی اپنی الگ الگ ریاستیں مانگیں گے۔

کراچی میں منعقدہ اتحادبین المسملین کانفرنس سےٹیلی فونک خطاب کرتےہوئےالطاف حسین نےکہاکہ پاکستان اس وقت دوراہےپرکھڑاہے،ملک میں فرقہ وارانہ اورمذہبی بنیادوں پرقتل عام ہورہاہے۔کسی بھی مسلک سےتعلق رکھنےوالےمعصوم مسلمان کاقتل عام ظلم،جبراوربربریت ہے،اگرشہریوں کوتحفظ نہیں دےسکتےاورانہیں دہشت گردوں کےرحم وکرم پرچھوڑناہےتوفوج ،آئی ایس آئی اوردیگرخفیہ ایجنسیوں کوختم کردیاجائے۔

انہوں نےکہاکہ اگرشہریوں کوتحفظ نہ ملاتوعیسائی،شیعہ، بریلوی اوراہل حدیث اپنی الگ الگ ریاستیں مانگیں گے۔

الطاف حسین کاکہناتھاکہ پاکستان کےلیڈرانسانیت کےنہیں درندوں اورظالموں کےدوست ہیں۔فوج اورخفیہ ایجنسیوں سےباگ دوڑنہیں سنبھالی گئی توملک ٹکڑےٹکڑےہوجائےگا۔

انہوں نےعلماسےاپیل کی کہ یہ وقت منافقت اورمصالحت سےکام لینےکانہیں ہے۔دوسروں پرذمےداری ڈال کریہ سمجھناکہ اپنافرض اداکردیامنافقت اوردھوکاہے۔ علماسوچیں کہ انھیں فتوےدینےہیں،منبرپروعظ کرناہےیامیدان عمل میں آناہے۔

الطاف حسین نےکہاکہ حکمرانوں،فوج اورانٹیلیجنس ایجنسیوں کوجرات مندانہ اقدامات کرنےہوں گے۔اگرجرات مندانہ اقدامات نہیں کیےگئےتوہاتھ ملتےرہ جائیں گے۔

کانفرنس کےآخرمیں ایک متفقہ قراردادمنظورکی گئی اورملک میں فرقہ واریت کےخاتمےاورمذہبی ہم آہنگی پیداکرنےکےلیے
13رکنی اتحادبین المسلین فورم تشکیل دےدی گئی۔

No comments:

Post a Comment