Saturday, August 18, 2012

Shia Massacre: Debate on social media

یوٹیوب کی ایک ویڈیونے سوشل میڈیا پر تند و تیز بحث چھیڑ دی ہے جس میں بابوسرکےعلاقےمیں تین روزقبل 25 شیعہ مسلمانوں کو ہلاک کرنے کے واقعے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔

ویڈیو میں جلتی ہوئی بسیں اور شیعوں کی شناخت معلوم کرنے کے لیے مسافروں سے سوال و جواب اور ان کا جسمانی معائنہ دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو میں ایک ادھیڑ عمر باریش شخص سے دہشت گرد پوچھتے ہیں کہ وہ کہاں کا رہنے والا ہے اور گلگت بلتستان کیوں جا رہا ہے۔ پھراس کی پیٹھ پر زخم کے نشان دیکھنے کے لیے ان کی قمیص اوپر کر دیتے ہیں تاکہ پتا چلے کہ وہ شیعہ ہے کہ نہیں۔

ٹویٹر پیغامات

تقریباً ڈیڑھ منٹ کی اس ویڈیو میں شیعہ مخالف اورگلگت بلتستان کے وزیرِ اعلیٰ کے خلاف نعروں کی آوازیں بھی آتی ہیں۔

پاکستانی اخبار ڈان کے کالم نگار عباس ناصر نے اس ویڈیوکے بارے میں سترہ اگست کو اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا ’میں سفید داڑھی والے شخص کے چہرے پر گھبراہٹ کے تاثرات کو اپنے ذہن سے نہیں نکال سکتا۔‘

راہول پنڈیداس نے تبصرہ کرتے لکھا ’شیعہ پاکستان کے ٹوٹسی بن گئے ہیں جتنے زیادہ مار دیے۔‘

انتونی پرمال نے اپنے مائیکرو بلاگ پر لکھا، ’ہم نے رمضان کے معنی ہی بدل ڈالے ہیں۔ برداشت؟ شیعہ کے لاش پر عید مبارک۔‘

رضا رومی نے لکھا ’منکروں اور ذہنی مریضوں کے علاوہ لوگوں کا شیعوں کو قتل کے مناظر دکھانے والی اس ویڈیو پر ردعمل دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں انسانیت ابھی زندہ ہے۔‘

پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما شیرین مزاری نے ٹویٹر پر لکھا، ’حکومت شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہے جس کے ساتھ شیعوں کو نشانہ بنا کے قتل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہاہے‘۔

ٹویٹر کو استعمال کرنے والے بعض لوگوں نے شیعہ رہنماؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ شیعوں کو دہشت گردی سے بچانے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

طارق فاتح نے لکھا، ’یہ عجیب نہیں لگتا سنی پاکستانی شیعہ مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں اور شیعہ مسلمان اسرائیل کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ بی بی سی

No comments:

Post a Comment