Tuesday, April 10, 2012

Situation tansed in Gilgit, curfew inposed

گلگت میں کشیدہ صورتحال کےباعث اشیائےخوردنوش کی شدیدقلت پیداہوگئی،کرفیومیں نرمی کےباوجودبازاراورٹرانسپورٹ بندرہے۔

تین اپریل کوگلگت اورچلاس میں فرقہ وارانہ حملوں کےباعث خطےمیں صورتحال بدستورکشیدہ ہےاورعلاقائی ہیڈکوارٹرگلگت کاکنٹرول فوج نےسنبھالاہواہے۔گزشتہ ایک ہفتےسےنافذکرفیومیں ہفتےکودوگھنٹےکی اورآج پیرکوتین گھنٹےکی نرمی کی گئی۔ اس دوران اشیائےخوردنوش کی کچھ دکانیں کھل گئیں جن پرلوگوں کاشدیدرش رہا۔وقت کی کمی کےباعث اکثردکانوں پرخریداروں کےدرمیان دھکم پیل اورہلڑبازی کےواقعات بھی پیش آئے۔اکثردکانوں پرکھانےپینےکی اشیاء ختم ہونےکی وجہ سےبیشتر لوگ بغیرخریداری کےگھروں کولوٹنےپرمجبورہوگئے۔

گلگت میں کرفیواورکشیدگی کےباعث شاہراہ قراقرم گزشتہ ایک ہفتےسےبندہےاورکسی بھی قسم کی آمدورفت اورنقل وحمل کی سرگرمیاں مکمل طورپرمنقطع ہیں جس کی وجہ سےگلگت بلتستان کاراول پنڈی سےزمینی رابطہ کٹ گیاہے۔جبکہ گلگت،اسکردو،غذراورہنزہ نگرسےاشیائےخوردنوش،ادویات اورایندھن کاسابقہ اسٹاک پرختم ہوچکاہے۔جس سےعلاقےمیں قحط اوروبائی امراض پھیلنےکاشدیدخدشہ لاحق ہوگیاہے۔غذرکےلیےچترال کےراستےسامان کی ترسیل کاراستہ اگرچہ کھلاہےتاہم طویل فاصلےکےباعث اشیاکی قیتوں میںسوگناسےبھی زائداضافہ ہوگیاہےجوغریب عوام کی قوت خریدسےباہرہے۔

اتوارکوہنزہ نگرمیں 3فوری کےواقعات کےردعمل میں اغواکیےگئے30افرادکی بازیابی کےلیےمقامی جرگہ بلایاگیاتھاجس کاکوئی نتیجہ تاحال سامنے نہیں آیا۔ادھرچلاس میں مسافربسوں پرحملوں میں جاں بحق ہونےوالے2مزیدافرادکی لاشیں اسکردوپہنچادی گئی ۔اس موقع پراسکردوشہرمیں کشیدگی اورسوگ کاسماں تھا۔جبکہ چلاس میں بسوں سےاغواکیےگئےمسافروں کابھی تاحال کچھ پتانہ چل سکا۔






No comments:

Post a Comment