Tuesday, April 3, 2012

Sectarian voilence grip Gilgit Baltistan, dozens killed

گلگت میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے،دودرجن کےقریب افرادہلاک،اعلیٰ سرکاری افسران،مزدوراغوا

گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کےمختلف واقعات میں ہلاک ہونےوالےافرادکی تعداد20سےزائدہوگئی،زخمی ہونےوالے70سےزائدافرادمختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں،کئی کی حالات تشویشناک،شہرمیں کرفیونافذ،فوج نےکنٹرول سنپھال لیا۔
تفصیلات کےمطابق آج صبح گلگت میں کالعدم تنظیم اہل سنت والجماعت کےتحت ان کےاسیررہنمامولاناعطاءاللہ ثاقب کی گرفتاری کےخلاف نکالی گئی احتجاجی ریلی پراتحادچوک پردستی بم سےحملہ کیاگیاجس میں 5افرادہلاک اور20سےزائدزخمی ہوگئے،واقعےکےبعدشہرمیں فسادات پھوٹ پڑےاورکونوداس،کشروٹ،مجینی محلہ،بسین سمیت مختلف علاقوں میں فائرنگ کےواقعات میں مزید20افرادزخمی ہوگئے۔اس کےردعمل میں گلگت سےراول پنڈی جانےوالی مسافربسوں پردیامرکےعلاقے گونرفارم میں حملہ کیاگیا جس میں6افرادموقع پرہلاک اور45کےقریب زخمی ہوگئےجنہیں چلاس اورگلگت منتقل کردیاگیا،حملےمیں زخمی ہونےوالےمزید7افرادنےبعدمیں اسپتال میں دم توڑدیاجس کےساتھ بسوں پرحملےمیں ہلاک افرادکی تعداد13ہوگئی۔ذرائع کےمطابق 40سےزائدافرادکواغواکرلیاگیا۔حملہ آوروں نےچھ بسوں کوگونرفارم میں روک لیااورشعیہ فرقےسےتعلق رکھنےوالےافرادکوشناخت کرکےنشانہ بنانےکےبعدتمام چھ بسوں کوآگ لگادی،ایک اطلاع کےمطابق گونرواقعےمیں کم از کم 24افراد کوہلاک اور65سےزائداغواکرلیےگئےہیں جنہیں ہلاک کیےجانےکاخدشہ ہے۔تاہم آزادذرائع سےاس کی تصدیق نہیں ہوسکی،پشاورسےشائع ہونےوالےایک انگریزی روزنامہ نےدعویٰ کیاہےکہ چلاس میں 20افرادکو جاں بحق اور40سےزائداغواکرلیےگئےہیں۔
درین اثناگلگت میں دواعلیٰ سرکاری افسران اورایک سول جج سمیت 33افرادکواغواکرلیاگیاہے،اغواہونےوالوں میں ایس پی نگربشیراورڈپٹی کمشنرآفندی شامل ہیں۔اغواکیےگئےسول جج کانام تاحال معلوم نہ ہوسکا۔نگرمیں نامعلوم افرادنےایک مقامی فلورمل میں کام کرنےوالے19مزدوروں کوبھی اغواکرلیاہے۔

گلگت سےرابطےمنقطہ

گلگت میں کشیدہ صورتحال کےباعث شاہراہ قراقرم اورغذرروڈکئی گھنٹوں تک ٹریفک کےلیےبندرہےجس کےباعث عوام کوسخت مشکلات کاسامناکرناپڑا۔شاہراہ قراقرم کی بندش سےراولپنڈی سےاشیائےخوردنوش کی ترسیل بندہوگئی ہےجس کےباعث اشیائےخوردنوش اورایندھن کی قلت پیداہونےکاخدشہ ہے۔ادھرغذرروڈبندہونےکی وجہ سےسینکڑوں گاڑیاں گاہکوچ میں روک لی گئیں جن میں مسافروں کےعلاوہ کئی مریض بھی سوارتھے۔بروقت اسپتال نہ پہنچنےکےباعث کئی مریضوں کی حالت غیرہوگئی جنہوں مقامی کلینکس میں عارضی طبی امدادفراہم کی گئی۔

کرفیواورفوج کاکنٹرول

گلگت میں کشیدہ صورتحال کےباعث آج صبح کرفیونافذکردی گئی تھی تاہم مختلف علاقوں میں فائرنگ اورتشددکاسلسلہ جاری رہااورسول انتظامیہ امن قائم کرنےمیں مکمل طورپرناکام رہی جس پرشہرکاکنٹرول فوج نےسنبھال لیاہے۔آخری اطلاعات تک فوج کےشہرکےاہم علاقوں میں چوکیاں قائم کردی ہیں اورلوگوں کوگھروں سےباہرنہ نکلنےکی ہدایات جاری کیں ہیں۔ تاہم اب تک شہرکےکسی حصےمیں چھاپوں اورگرفتاریوں کوکوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔بعص علاقوں سےفائرنگ کی آوازیں بدستورآرہی ہیں۔

تعلیم ادارےمتاثر

گلگت شہرمیں اچانک کرفیوکےنفاذکےبعدبچےاسکولوں میں پھنس گئےجنہیں شام 6بجےکےبعدپولیس کی گاڑیوں میں ان کےگھروں کومنتقل کردیاگیا۔قراقرم انٹرنیشنل یونی ورسٹی کی وائس چانسلرڈاکٹرنجمہ نجم نےغیرمعینہ مدت تک یونیورسٹی کوبندرکھنےکااعلان کیاہے۔یونیورسٹی کےپی آرآفیسرشاہدشگری کےمطابق شہرمیں کرفیواٹھتےہیں یونیورسٹی کوکھول دیاجائےگا۔آج شہرمیں کراس فائرنگ کی زدمیں آکرآغاخان ہائرسیکنڈڑی اسکول کاایک طالب علم امجدبھی زخمی ہوگیا۔امجدکونوداس سےہائی سیکنڈری اسکول جاتےہوئےاس وقت شدیدزخمی ہوگئےجب مشتعل افرادکی فائرنگ کےدوران ایک گولی ان کےسرپرلگی۔انہیں فوری طورپرچنارباغ میں ہیلتھ سینٹرمنتقل کردیاگیا۔امجدکاتعلق یاسین کےعلاقےدرکوت سےبتایاجاتاہے۔

امن کی کوششیں پس منظرمیں

فروری کےآخری ہفتےمیں کوہستان کےعلاقےہربن میں 18شیعہ زائرین کی ہلاکت کےبعدخطےمیں حالات کشیدہ ہیں۔گلگت اوربلستان میں دونوں فرقوں کےدرمیان مسلح جھڑپوں میں اب تک 50سےزائدافرادہلاک اور10سےزائدزخمی ہوچکےہیں۔گزشتہ ماہ وزیرداخلہ رحمان ملک نےاپنےدورہ گلگت میں مقامی امن جرگےکودوبارہ فعال کرنےکادعویٰ کیاتھاجس کےذمےہربن سانحےمیں ملوث افرادکی گرفتاری اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی سونپی گئی تھی تاہم ملزمان کی گرفتاری کےحوالےسےکوئی پیش رفت نہیں ہواجس کےبعدفرقہ وارانہ ہم آہنگی کی تمام ترکوششیں پس منظرمیں چلی گئی ہیں اوربظاہرلگتاہےکہ دونوں فرقےایک دوسرےسےخون کابدلہ لینےکےدرپےہوگئےہیں۔انتہائی باخبرذرائع نےانکشاف کیاہےکہ گلگت بلتستان کی شعیہ آبادی نےقتل کےبدلےقتل اورسنی آبادی نے ایک جان کےبدلے4جانیں کافارمولاتیارکیاہواہے۔

آگ کی تپش پھیل گئی

گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ آگ کی تپش پاکستانی شہروں میں بھی نمودارہوناشروع ہوگئی ہے۔آج سنی اتحادکونسل کےرہنماطاہراشرفی نےایک پریس کانفرنس میں الزام لگایاکہ گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ فسادات کےذمےداررحمان ملک ہیں۔جبکہ سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین ناصر عباس جعفری نےسیکیورٹی اداروں کوفسادات کاذمےدارٹھہرایاہے۔جےیوآئی کےسربراہ مولانافضل الرحمان نےبھی گلگت بلتستان کی صورتحال پرتشویش کااظہارکیاہے۔واضح رہےکہ رحمان ملک نےچند روزقبل انکشاف کیاتھاکہ کوہستان میں شعیہ زائرین کےقتل کےواقعےمیں ملوث افرادکاتعلق دیامرکی تحصیل داریل سےہے۔



No comments:

Post a Comment