Sunday, March 25, 2012

Nationalists concerned over Chinese language as part of curriculum

گلگت بلتستان میں چینی افواج کی موجودگی اورخطےکوچین کےحوالےکرنےسےمتعلق خبریں زیرگردش ہیں ایسےمیں چینی زبان کونصاب تعلیم کاحصہ بنانےسےان خبروں کوتقویت مل رہی ہےجوباعث تشویش ہے۔ان خیالات کااظہارگلگت بلتستان یونائیٹڈموومنٹ کےسربراہ منظورپروانہ نےاپنےایک بیان میں کیاہے۔ان کاکہناہےکہ گلگت بلتستان کےتعلیمی اداروں میں مقامی زبانوں پرمشتمل نصاب شامل ہوناچاہیےلیکن حکومت نےچینی زبان کونصاب کاحصہ بناکرمقامی زبانوں کےمستقبل کوداوپرلگادیاہے۔ہمسائیہ ممالک کوخوش کرنےکےغیرملکی زبانوں کونصاب کاحصہ بنانےکاسلسلہ جاری رہاتوگلگت بلتستان کی مقامی زبانیں،تہذیت وتمدن اورعلاقائی اقدارمٹ جائےگا۔ان کاکہناہےکہ گلگت بلتستان بےزبان دھرتی نہیں۔یہاں کی بلتی، شینا،بروششکی،وخی اورکھوارزبانیں دنیامیں اہمیت کےحامل ہیں اوربلتی دنیاکےسات ملکوں میں بولی جاتی ہےاورایک ملک کاقومی زبان بھی ہے۔گلگت بلتستان کےتعلیمی اداروں میں مقامی زبانوں پرمشتمل نصاب شامل ہوناچاہیے۔ منظورپروانہ کاکہناہےکہ گلگت بلتستان کوعالمی سازشوں کااکھاڑابنایاجارہاہے۔ایک سازش کےتحت گلگت بلتستان میں چینی افواج کی موجودگی اوراس خطےکوچین کےحوالےکرنےجیسی خبریں عالمی میڈیامیں زیربحث ہیں۔ان حالات میں چینی زبان کونصاب تعلیم میں شامل کرکےان خبروں کوتقویت دی جارہی ہےاوربین الاقوامی طاقتوں کی یہاں مداخلت کےلیےراہ ہموارکیاجارہاہے۔دنیامیں اس فیصلےکوگلگت بلتستان میں چین کےپیشگی اقدامات کےطورپرلیاجائےگالہٰذاگلگت بلتستان کےعوام خطےمیں بیرونی مداخلت پرخاموش رہنےکی عادت ترک کرتےہوئےحکمرانوں کی اس طرح کےاقدامات کےخلاف اٹھ کھڑےہوں۔

No comments:

Post a Comment