Sunday, March 11, 2012

Jirgah to decide fate of peace in Gilgit

گلگت: وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک کی زیرصدارت اجلاس،امن وامان کےحوالےسےمتعدداقدامات اٹھانےپرغور۔تفصیلات کےمطابق کوہستان میں گزشتہ ماہ 18شیعہ مسلمانوں کےقتل کےبعد گلگت بلتستان میں حالات انہتائی کشیدہ اورمعمولات زندگی مکمل طورپردرہم برہم ہیں۔شیعہ آبادی نےمجرموں کی گرفتاری کےلیےحکومت کوجو ڈیڈلائن دی تھی اس کی مدت آج ختم ہوگئی۔سانحےکودوہفتےگزرنےکےباوجودکوئی حکومتی اقدام سامنےنہ آنےپرشیعہ آبادی میں شدیدغم وغصہ پایاجاتاتھاجس پرآیندہ کالائحہ عمل طےکرنےکےلیےجمعےکوشیعوں کےمساجداورامام بارگاہوں میں بڑےاجتماعات ہوئے۔جمعےکی شپ شیعہ مساجداورامام بارگاہوں سےآیندہ کے لائحہ عمل کاباقاعدہ اعلان کیاگیا۔رات 8بجےامام بارگاہوں سےبیک وقت اعلانات کیےگئےجس کےبعدشہراورملحقہ علاقوں میں شدیدخوف وہراس پھیل گیا۔تاہم ہفتےکی صبح وزیرداخلہ رحمان ملک گلگت پہنچےاورایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ،کابینہ کےارکان،فورس کمانڈر،سیف سیکریٹری، ہوم سیکریٹری،دیگرتمام متعلقہ حکام نےشرکت کی۔اجلاس کےبعدمیڈیاسےگفتگوکرتےہوئےرحمان ملک کاکہناتھاکہ گلگت میں دہشت گردوں کےخلاف بڑاآپریشن کرنےکافیصلہ کیاگیاہے،شاہراہ قراقم پرسفرکومحفوظ بنانےکےلیےخصوصی اقدامات اورپی آئی اےکی پروازیں بڑھائی جارہی ہیں۔ان کاکہناتھاکہ گلگت میں مستقل اورپائیدارامن کےلیےسیکیورٹی فورسزکےساتھ ساتھ امن جرگےکوبھی بحال کیاجائےگا۔

تاہم ذرائع کےمطابق اجلاس میں فیصلہ کیاگیاہےکہ گلگت میں کسی بڑےآپریشن سےقبل امن جرگےکودوبارہ فعال کیاجائےگاجوسانحہ کوہستان کےذمےداروں کاتعین کرےگااورباہمی اتفاق سےمجرموں کوقانون کےحوالےکرےگا۔

واضح رہےکہ قتل کیےگئےشیعہ مسلمانوں کےلواحقین نےدعویٰ کیاہےکہ ہربن میں گاڑیوں سےشیعوں کواتارکراورشناخت کرکےقتل کرنےوالےبیشتردہشت گردوں کاتعلق گلگت سےہے۔ذرائع کےمطابق دہشت گردوں نےواردات کےوقت سب سےپہلےفقیرنامی ایک شخص کانام پوچھاتھا۔گاڑی میں سوارنگرسےتعلق رکھنےوالےایک شخص نےفقیرکےنام سےاپنی شناخت کرائی جس پردہشت گردوں نےشعیہ فرقےسےتعلق رکھنےوالےدیگرتمام افرادکواپنی شناخت کرانےکاحکم دیا۔گاڑی میں فقیرکےہمراہ ان کی بیٹی بھی موجودتھی جوزندہ بچ گئی،اس نےانکشاف کیاہےکہ حملہ آورگلگت کی بولی جانےوالی شینابول رہےتھے(کوہستان،دیامراورگلگت میںبولی جانےوالی شینامیں واضح فرق پایاجاتاہے)۔ذرائع کےمطابق بچ جانےوالےافرادکایہ بھی کہناہےکہ دہشت گردوں نےبس میں سوارافرادسےصرف ان کےعلاقوں کےنام پوچھے۔جن افرادنےاپناتعلق شیعہ اکثریتی علاقےسےبتایااسےنشانہ بنایاگیا۔اس دعوےکواس وقت تقویت ملی جب سانحےمیں جاں بحق ہونےوالےایک شیعہ کی تعزیت کےلیےشکھیوٹ جانےوالےایک جلوس کوبسین میں روکنےکی کوشش کی گئی،بسین کی مقامی آبادی کی جانب شیعوں کےجلوس کوروکنےکی کوشش کےدوران دونوں اطراف سےفائرنگ کاتبادلہ ہوا۔شدیدکشیدگی کےبعدگلگت اورملحقہ علاقوں سےہزاروں کی تعداد میں لوگ بسین پہنچ گئےاوربالآخرجلوس رکاوٹیں توڑکرشکھیوٹ جانےمیں کامیاب ہوگیا۔شیعہ آبادی کایہ بھی کہناہےکہ کوہستان سانحےسےپہلےاوربعدگلگت میں پیش آنےکچھ واقعات کاتانابانہ بھی اس اجتماعی قتل کےواقعےسےجاملتاہےان کےمطابق چلاس کےایس پی ذوالفقار،جسےواقعےکےبعدمعطل کیاگیاہے،نےحال ہی میں اپنی پوسٹنگ چلاس میں کرائی تھی۔ذوالفقارکاتعلق نپورسےہےاورمبینہ طورپرالاخوان نامی ایک مقامی شدت پسندمذہنی تنظیم میں سرگرم رہےہیں۔ ذرائع کاییہ بھی کہناہےکہ گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی کےممبرحمایت اللہ،جوبسین میں شیعہ آبادکےقریب رہائش پذیدتھا، نےسانحےسےمحض دودن قبل اپنی فیملی کونوداس سےملحقہ سنی آبادی میں منتقل کی تھی۔

وزیرداخلہ کی زیرصدارت اجلاس میں ہونےوالےفیصلوں کےخاطرخواہ نتائج سامنےآنےکےامکانات کم دکھائی دیتےہیں کیونکہ آپریشن کی ضرورت وہاں ہےجہاں سانحہ پیش آیا۔ اجتماعی قتل کاواقعہ کوہستان کےعلاقے ہربن میں پیش آیا،واردات کےبعددہشت گردہربن کے اندرونی علاقوں کی طرف فرارہوئےجن کاتعاقب نہیں کیاگیا۔قوی امکان ہےکہ وہ اب بھی ہربن میں بالکل محفوظ اورآزادانہ گھوم پھررہےہوں گے۔

No comments:

Post a Comment