Sunday, March 4, 2012

Deteriorating law and order situation, curfew imposed in Gilgit

گلگت میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال کےباعث کرفیونافذ،گلگت بلتستان اسکاؤٹس اوررینجرزکوپولیس کےاختیارات دےگئے۔

پانچ روزقبل کوہستان میں 18شیعہ مسلمانوں کےقتل کےبعدگلگت بلتستان میں امن وامان کی صورتحال بدستور انتہائی تشویشناک ہے۔سانحہ کوہستان کےخلاف گلگت،بلتستان،غذر،دیامراوراستورمیں مظاہروں کاسلسلہ بھی جاری ہےجبکہ گلگت میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کےخدشات کےپیش نظرپہلےہی دفعہ 144نافذکردی گئی تھی تاہم آج شہرکےمضافاتی علاقےبسین میں مظاہرےاورفائرنگ کےواقعےکےبعد کرفیونافذکردی گئی ہے۔

ہوم سیکریٹری گلگت بلتستان ساجدچوہان کےمطابق سیکیورٹی فورسزنےیادگارمحلےمیں ایک گھرپرچھاپہ مارکربڑی تعدادمیں اسلحہ اورگولہ بارودبرآمدکرلیاہے۔جس میں ایل ایم جی،3کلاشنکوف،7مارٹرگولے،تین پستول اورسیکڑوں گولیاں شامل ہیں۔

ادھروزیراعلیٰ مہدی کی زیرصدارت امن وامان سےمتعلق اجلاس منعقد ہواجس میں غیرقانون اسلحہ کےخلاف بڑےپیمانےپرآپریشن کرنےپرغورکیاگیا۔اجلاس کےدوران وزیرداخلہ رحمان ملک نےوزیراعلیٰ کوفون کیا۔وزارت داخلہ کےاعلامیےکےمطابق رحمان ملک نےوزیراعلیٰ مہدی سےمشاورت کےبعدپولیس کےاختیارات رینجرزکومنتقل کرنےکاحکم دےدیاہے۔2روزقبل وزیرداخلہ نےپولیس کےاختیارات گلگت بلتستان اسکاوٹس کومنتقل کرنےکااعلان کیاتھا۔

No comments:

Post a Comment