Monday, December 19, 2011

Death sentence ordered in nurse murder case

نرس کوقتل کرنےکاالزام ثابت ہونےپرتین ملزمان کوسزاسنادی گئی

گلگت: انسداددہشت گردی کی عدالت نےنرس قتل کیس کےمرکزی ملزم ندیم عباس کوسزائےموت اور3لاکھ روپےجرمانےکی سزاسنادی۔مقدمےمیں ملوث ملزمہ جمیلہ بی بی کوعمرقیداور3لاکھ روپےجرمانہ جبکہ ہاسٹل کےگارڈکوساڑھےسات سال قیداورایک لاکھ روپےجرمانےکی سزاسنادی۔
عدالت نےڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹراسپتال کےایم ایس ڈاکٹریعقوب اورمیڈیکل آفیسرڈاکٹرالشادبیگم کوجرم ثابت نہ ہونےپربری کردیا۔استورسےتعلق رکھنےوالی نرس شبانہ اختر12مئی 2011کوڈی ایچ کیواسپتال کےہاسٹل میں مردہ پائی گئی تھی۔شبانہ کی لاش پنکھےسےلٹکی ہوئی پائی گئی تھی۔ابتدامیں ڈاکٹریعقوب کی سربراہی میں میڈیکل ٹیم نےواقعےکوخودکشی قراردےدیاجس کےبعدلاش کودفنادیاگیاتاہم سپریم اپیلٹ کورٹ کی جانب سےازخودنوٹس کےبعدانسداددہشت گردی کی عدالت نےدوبارہ تحقیقات شروع کردیں اورپاکستان انسٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزاسلام آبادکےڈاکٹروں پرمشتمل ٹیم نےقراردیاکہ شبانہ کوقتل کردیاگیاہے جس میں ڈی ایچ کیواسپتال کےایک نرس ندیم عباس اورنرسنگ ہاسٹل کی وارڈن جمیلہ بی بی ملوث تھے۔تحقیقات سےیہ بھی معلوم ہواکہ شبانہ کاپوسٹ مارٹم بھی کیاجاچکاتھاجس میں اسےخودکشی قراردیاگیاتھے۔پویس کےمطابق موت کی وجہ شبانہ اخترکےموبائل میں موجودوہ ویڈیوبنی جس میں ملزمہ جمیلہ بی بی کےکچھ قابل اعترازشاٹ موجودتھے۔ستمبرمیں جعلی پوسٹ مارٹم کرنےوالےڈاکٹریعقوب کوبھی گرفتارکرلیاگیا۔گلگت بلتستان کی تاریخ میں یہ دوسراموقع ہےکہ کسی سنگین جرم میں ملوث ملزم کوموت کی سزاسنادی گئی ہے۔اس سےقبل80کی دہائی میں عدالت کےحکم پر گلگت میں ایک شخص کوموت کےگھاڑاتاردیاگیاتھا۔



No comments:

Post a Comment