Tuesday, September 27, 2011

CM spends 5 millions to win confidence of rulers, not for flood effecties

سندھ کے سیلاب متاثرین کےلیے50لاکھ روپے،ہنزہ متاثرین کی قسمت میں گولیاں،جیل کی سلاخیں

اسلام آباد: وزیراعلیٰ  گلگت بلتستان سیدمہدی شاہ نے سندھ میں متاثرین سیلاب کی مددکےلیےوزیراعظم کےریلیف فنڈمیں 50لاکھ روپےجمع کرادیے۔امدادی رقم کاچیک وزیراعظم کےحوالےکرنےکےموقع پرمہدی شاہ نےسندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں پرشدیدافسوس اوردکھ کااظہارکیااورمتاثرین کی امداداوربحالی کےلیے اقدامات پرحکومت سندھ اوروفاق کوزبردست خراج تحسین پیش کرنےکےساتھ ساتھ امدادی کاموں میں ہرقسم کےتعاون کاعزم ظاہرکیا۔واضح رہےکہ جنوری 2010میں ہنزہ کےعلاقےعطاآبادمیں سیلاب کےباعث دریائےہنزہ کابہاوبندہونےسےگوجال کےمتعددعلاقے ڈوب گئےتھےجن کی بحالی کاکام پونےدوسال گزرنےکےباوجودمکمل نہیں ہوااورمتاثرین اب بھی حکومتی امدادکےلیےسراپہ احتجاج ہیں۔گزشتہ ماہ ایک ایسےہی احتجاجی مظاہرےپرپولیس کی فائرنگ سےباپ اوربیٹےسمیت 5افرادجاں بحق اور3زخمی ہوگئےتھے۔یہ سانحہ اس وقت پیش آیاتھاجب وزیراعلیٰ مہدی شاہ ہنزہ کےدورےپرتھے۔میڈیارپورٹس کےمطابق مظاہرین پرفائرنگ وزیراعلیٰ کےحکم پرکی گئی کیوں وہ نہیں چاہتےتھےکہ ان کےدورےمیں کسی قسم کا خلل پیداہو۔کچھ ذرائع کایہ بھی کہناہےکہ مظاہرین پرفائرنگ کاحکم وزیراعلیٰ کی اس پالیسی کاحصہ تھاجس کےتحت گلگت بلتستان میں امن وامان کامسئلہ پیداکرکےسپریم کورٹ کےحکم پرآئی جی حسین اصغرکےواپس اسلام آبادتبادلےکوروکناتھا۔علی آبادمیں سیلاب متاثرین پرپولیس کی فائرنگ کےبعد بھی وزیراعلیٰ کی ستم گیری کاسلسلہ ختم نہیں ہوااورمتاثرین سیلاب کےقتل پراحتجاج کرنےپردرجنوں افرادکوگرفتارکرلیاگیاہےجواس وقت سلاخوں کےپیچھےہیں اورکئی افرادروپوش ہیں۔ سوال یہ ہےکہ اپنےآبائی خطےمیں عوام پرمظالم ڈھانےوالےایک ایساشخص جس پرجنسی اسکینڈلزاورکرپشن کےالزامات ہیں وزیراعظم کو50لاکھ روپےکاچیک پیش کرکےکیاظاہریاحاصل کرناچاہتاہے جبکہ خودوزیراعظم اپنےصوابدیدی فنڈزکے29ارب روپوں میں سےسیلاب متاثرین پرایک روپیہ بھی خرچ کرنےکےلیےتیارنہیں ہیں۔نمائندہ خصوصی

1 comment:

  1. shame on our cheaph minister, the people of gilgit-baltistan should for now realise that the so called representatives are in the corridors of a non existent power just to serve the slaves of slaves. i.e the corrupt pakistani ruling elite.

    ReplyDelete