Saturday, September 17, 2011

CM Gilgit-Baltistan to surrender Tajikistan road project

گلگت: وزیراعلیٰ مہدی شاہ نےکہاہےکہ اگروفاقی حکومت نےتاجکستان روڈپروجیکٹ کاطےشدہ پلان تبدیل کرکےاسےخیبرپختونخواکودینےکافیصلہ کیاتواس سےاتفاق کرنےکےسواکوئی چارہ نہیں ہوگا۔گلگت میں میڈیاسےگفت گوکرتےہوئےسیدمہدی شاہ نےکہاکہ ان کی جلد وزیراعظم سےملاقات ہوگی جس میں تاجکستان روڈپروجیکٹ کامعاملہ بھی اٹھایاجائےگا۔تاہم اگروفاقی حکومت نےیہ پروجیکٹ خیبرپختونخواکودینےکاحتمی فیصلہ کیاتوہم صرف گلگت بلتستان کواس شاہراہ سےلنک کرنےکامطالبہ کریں گے۔وزیراعلیٰ کے مبہم بیان نےاس خدشےکوجنم دیاہےکہ جس طرح انہوں نےشندورکی ملکیت کےمعاملےمیں خیبرپختونخواحکومت کےسامنےمکمل ہتھیارڈال دیےتھےاس طرح تاجکستان روڈکے منصوبےسےدستبردارہونےکامصمم ارادہ کیاہواہے۔پاکستان کوتاجکستان سےملانےکےلیےسابق صدرپرویزمشرف کےدورمیں جوپلان طےکیاگیاتھااس کےتحت یہ شاہراہ غذرکےراستےتعمیرہوناتھاتاہم اب مفاہمت کےنام پرپیپلزپارٹی اوراےاین پی نےبندربانٹ اورسیاسی رشوت کاجوسلسلہ جاری رکھاہواہےاس کی قیمت گلگت بلتستان کے22لاکھ عوام اداکررہےہیں۔پہلےبھاشاڈیم کی تعمیرمیں حائل قانونی رکاوٹوں کودورکرنےکےلیےگلگت بلتستان کوصوبےکاجعلی نام دیاگیااوراب تاجکستان روڈجیسابڑامنصوبہ خیبرپختونخواکودینےکےلیےگلگت اوربلتستان کوبڑےشہروں کی حیثیت دینےکاشوشہ چھوڑاگیاہےتاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سےہٹائی جاسکے۔بھاشاڈیم کی تعمیرسےگلگت بلتستان کاایک وسیع علاقہ ڈوب جائےگاجس کےساتھ خطےکی ہزاروں سال پرمحیط تاریخ دفن ہوجائےگی۔اس کےبدلےمیں گلگت بلتستان کوکیاملےگا؟اوراب تاجکستان روڈپروجیکٹ بھی بندربانٹ اورسیاسی رشوت کےطورپرخیبرپختونخواکےحوالےکیاگیاتویہ گلگت بلتستان کی مکمل معاشی بربادی کےمترادف ہوگااوراس کی ذمےداروفاق کی عوام دشمن کرپٹ حکومت اورگلگت بلتستان میں موجوداس کےحواری ہوں گےجن کاسرغنہ مہدی شاہ ہیں۔کرپشن اورجنسی اسکینڈلزمیں لت پت یہ شخص گلگت بلتستان کواپنی جائیدادکہتاہے(بیانات رکارڈپرہیں)۔اوریہی سمجھ کراپنےضمیرکی طرح گلگت بلتستان کابھی سوداکرنےپرتلاہواہے۔

No comments:

Post a Comment