Friday, August 12, 2011

Police Terrorism in Hunza, 2 dead, 5 injured

عطاآبادجھیل کےمتاثرین پرپولیس کی وحشانہ فائرنگ،دوافرادجاں بحق،5زخمی
ہنزہ: وزیراعلیٰ مہدی شاہ کی آمدپر فنڈزکی فراہمی کےلیےاحتجاج کرنےوالےمتاثرین سیلاب پولیس کی دہشت گردی کاشکاربن گئے۔پولیس کی وحشیانہ فائرنگ سے2مظاہرین جاں بحق اور5زخمی ہوگئے۔ 
اطلاعات کےمطابق عطاآبادکےمقام پرگزشتہ سال آنےوالےسیلاب کےمتاثرین اورجھیل کےمتاثرین وزیراعلیٰ مہدی شاہ کی ہنزہ آمدکےموقع پرعلی آبادمیں ایک احتجاجی مظاہرہ کررہےتھے۔ان کامطالبہ تھاکہ ڈیڑھ سال گزرنےکےباوجود علاقےمیں تعمیرنوکےکاموں کےمختص فنڈزجاری نہیں کیےگئےجس کےباعث بہت سےمتاثرین ابھی تک عارضی پناہ گاہوں میں رہ رہےہیں۔لہٰذاان کےفنڈزجاری کیےجائیں۔متاثرین کااحتجاج انتظامی کاپسندنہیں آئی اورانہوں نےمظاہرین کوگولیوں سےبھون ڈالا۔
پولیس کی فائرنگ سے7افرادزخمی ہوگئے جن میں آئین آبادسےتعلق رکھنےوالے50سالہ شیراللہ بیگ اوران کابیٹاشیرافضل نےاسپتال میں دم توڑدیا۔زخمیوں کاتعلق آئین آباداورششکٹ سےبتایاجاتاہے۔فائرنگ کی زدمیں آکرعلی آبادکاایک طالب علی جواسکول سےواپس گھرجارہاتھا،زخمی ہواہے۔
عوامی غم وغصہ
واقعےکی خبرپورےعلاقےمیں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اورچندمنٹوں کےاندرہزاروں افراد سڑکوں پرنکل آئے اورپولیس کی اس کھلی دہشت گردی کےخلاف سخت احتجاج کیا۔مشتعل مظاہرین نےسب سےپہلےعلی آبادتھانےکوآگ لگادی ۔پولیس کے دوموبائل،ایس ایچ اوکی گاڑی اورواپڈاکی گاڑی کوبھی نذرآتش کیاگیا۔
واقعےکےخلاف ہنزہ اورگلگت کےدیگرعلاقوں میں بھی لوگ سڑکوں پرنکل آئے۔گلمت میں مظاہرین نےتھانےپرحملہ کیااورعمارت شدیدنقصان پہنچایا۔حملےکےدوران پولیس اہلکارتھانہ چھوڑکربھاگ گئے۔ششکٹ میں مظاہرین نےجھیل پربوٹ سروس معطل کردی جنکہ سوست میں مظاہروں کےدوران ڈرائی پورٹ بھی سرگرمیاں بند کردی گئیں۔ناصرآبادمیں مظاہرین نےپولیس کی دہشت گردی کےخلاف احتجاج کرتےہوئےشاہراہ قراقرم کےکئی گھنٹوں تک عام ٹریفک کےلیےبلاک کردیا۔گلگت میں ذوالفقارآبادکےمکینوں نےمین شاہراہ قائداعظم کوبلاک کرکےسڑک پرٹائرجلائےاورگلگت بلتستان حکومت کےخلاف شدیدنعرےبازی کی۔مظاہرین نےوزیراعظم کےخلاف زبردست نعرےبازی کی جونازیبامگرحقیقت پرمنبی تھے۔مظاہرین نےوزیراعلیٰ سےفوری طورپرمستعفی ہونےکامطالبہ کیا۔
سیاسی حمایت

ہنزہ میں پولیس کی دہشت گردی کےخلاف قانون سازاسمبلی میں اپوزیشن ارکان نےشدیددکھ اورغم وغصےکااظہارکیاہے۔گلگت میں احتجاجی ریلی سےخطاب کرتےہوئےسیاسی رہنماؤں نےواقعےکوحکومت کی شہریوں کوتحفظ فراہم کرنےمیں ناکامی قراردیا۔بگروٹ سےتعلق رکھنےوالےرکن قانون سازاسمبلی منظورحسین المعروف منظوربگورونےواقعےکی شدیدالفاط میں مذمت کرتےہوئےاسے ہنزہ کےخلاف گہری سازش قراردیاہے۔انہوں نےاس سازش میں ملوث افرادکےخلاف فوری کارروائی کامطالبہ کیا۔رکن قانون سازاسمبلی نوازخان ناجی نےکہاکہ دیامرسےپنیال تک اوراسکردوسےعلی آبادتک پولیس نےاپنی اختیارکےغلط استعمال کی انگنت داستانیں چھوڑی ہیں جس میں کئی شہری جاں بحق اورزخمی ہوئے۔انہوں نےمطالبہ کیاکہ وزیراعلیٰ مہدی شاہ کوفوری طورمعافی معانگنے کے بعدمستعفی ہوجاناچاہیے۔سابق رکن قانون ساز کونسل اورمسلم لیگ(ن)کےرہنماحافظ حفیظ الرحمان نےکہاکہ پرامن مظاہرین پر فائرنگ ظلم وبربریت کی تازہ مثال ہے۔انہوں نےمہدی شاہ سےمستعفی ہونے اورواقعےکی عدالتی انکوائری بھی مطالبہ کیا۔اپوزیش لیڈربشیراحمدخان نےحکومت کو ہنزہ میں پولیس دہشت گردی کاذمےدارقراردیتےہوئےصدرزرداری اوروزیراعظم گیلانی سےمطالبہ کیاکہ مہدی شاہ کی کرپٹ حکومت کوبرخاست کیاجائے۔ مقامی حکومت ہے۔ صوبائی وزیرصحت حاجی جان بازنےواقعے کی مذمت کرتےہوئےمتاثرین سیلاب کوانصاف فراہم کرنےکامطالبہ کیا۔سابق مشیرنورالعمین،اسپیکروزیربیگ نے بھی واقعے کی مذمت کی ہےتاہم ہنزہ میں وزیربیگ اورمطبیت شاہ کےخلاف شدیدغم وغصہ پایاجاتاہے۔کیوں کہ وہ اپنےووٹرزکوتحفظ فراہم کرنےمیں ناکام رہےہیں۔دیکھنایہ ہےکہ چونکہ وزیراعلیٰ براہ راست ملوث ہونےکےباعث واقعے کےآزادنہ اورمنصفانہ فیصلےکی توقع نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذاوزیربیگ اپنےوزیراعلی اورعوام میں سےکس کاانتخاب کرتےہیں۔ 
اب کیاہوگا
گلگت بلتستان کےنہتےاوربےبس عوام وقتافوقتاپولیس کی دہشت گردی کاشکارہوتےرہتےہیں لیکن ان کےدردکاکوئی مداوانہیں ہوتا۔ایسالگتاہےکہ حکومت نےپولیس کوعوام کےخون سےکھیلنےکی کھلی چھٹی دےرکھی ہے۔چندماہ قبل دیامرمیں سیلاب متاثرین کوامدادکے حصول کےلیےاحتجاج کرنےپرگولیوں سےبھون دیاگیاجس میں دومتاثرین شدیدزخمی ہوگئے۔واقعےکےخلاف پورےعلاقےمیں احتجان اورمظاہرےہوئےلیکن انتظامیہ اورمقامی حکومت کی کان پرجوں تک نہیں رنگی ۔گزشتہ سال فروری میں بھاشاڈیم کی غیرقانونی تعمیرکےخلاف احتجاج کرنےوالےپرامن مظاہرین پولیس کی بربریت کاشکارہوئے۔پولیس کی فائرنگ سےڈیم سائیٹ پراحتجاج کرنےوالے3مظاہرین جاں بحق اور4زخمی ہوگئے۔گزشتہ سال قانون ساز اسمبلی کےعام انتخابات کےدوران پولیس کی فائرنگ سےشیرقلعہ میں بی این ایف کارکن جاں بحق ہوگیا۔چندسال قبل یاسین کےدوطالب علم گلگت میں دہشت گردوں کوشکاربن گئے۔آغاخان ہائرسیکنڈری اسکول کےہونہازطالب علم جودرندوں کاشکاربناان درندہ صفت مجرموں میں ایک پولیس اہلکاربھی شامل تھا۔اس وقت زندگی کےتمام شعبوں سےتعلق رکھنےوالےقوم کےہرفردنےمجرموں کوسرعام پھانسی دینےکامطالبہ کیا لیکن مجرم باعزت بری ہوگئے۔پولیس کی درندگیوں کی داستان بہت طویل ہے۔ ایس افرادکےخلاف کارروائی کرناحکومت کاکام ہےلیکن یہ بات بھی حقیقت ہےکہ ایک معمول پولیس کانسٹیبل اپنےسینیرکےحکم کےبغیرانتہائی قدم اٹھانےکی جرات کیسے کرسکتاہے۔یہ ممکن نہیں ہےکہ پولیس کےنچلےدرجےکانوکرکسی کےحکم کےبغیرکسی بےگناہ کےخون سےاپنےہاتھ رنگے۔اس کاواضح ثبوت یہی ہےکہ ان اہلکاروں کےخلاف نہ صرف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی بلکہ انہیں ریوارڈسےنوازاجاتاہے۔ہنزہ میں پولیس گردی میں تووزیراعلیٰ براہ راست ملوث ہیں۔لہٰذاحکومت سےان پولیس والوں کےخلاف کارروائی کامطالبہ کرنااحمقانہ حرکت ہوگی۔حکومت حسب معمول معاملےکی تحقیقات کرانےکااعلان کرےگی ۔پاکستان میں کروڑوں جرائم کی تحقیقات ہوئیں لیکن کسی ایک کی بھی رپورٹ سامنےنہیں آئی۔ اس ہتھکنڈےکامقصدمعاملےکوٹھنڈاکرناہوتاہے۔نتیجتالوگ آہستہ آہستہ اس فراموش کردیتےہیں۔ لہٰذاحکومت کےکسی فریب میں آئےبغیراپنامعاملہ خودہی حل کرناہے۔اوریہ کیسےکرناہےاس کافیصلہ قوم کےنوجوانوں کوجلدسوچ سمجھ کرکرناچاہیے۔

No comments:

Post a Comment