Tuesday, August 2, 2011

Indian team to meet nationalists of Gilgit Baltistan

 بھارتی وفدکی گلگت بلتستان کی قوم پرست قیادت سےملاقات کاامکان
پاکستان اوربھارت کےدرمیان خارجہ سطح کےمزاکرات کااگلادورپاکستان میں ہوگاجس میں بھارتی وفدکی جانب سےگلگت بلتستان کامسئلہ بھی بات چیت میں شامل کیےجانےکاامکان ہے۔بھارتی میڈیانے یہ سوال اٹھایاہےکہ جس طرح پاکستان کی وزیرخارجہ حناربانی کھر نے اپنے حالیہ دورہ بھارت میں مزاکرات سےقبل حریب کانفرنس کےرہنماؤں سےملاقات کی تھی اسی طرح اگربھارتی وفداپنےدورہ پاکستان میں گلگت بلتستان کےقوم پرست رہنماؤں سے ملاقات کرےگاتو اس پرپاکستان کاردعمل کیاہوگا۔
وزیرخارجہ حناربانی کھرنئی دلی میں حریت
کانفرنس کےرہنماؤں سےملاقات کررہی ہیں،
سیکریٹری خارجہ سلمان بشیراوردیگرپاکستانی
حکام بھی موجودہیں
گلگت بلتستان میں پاکستان کی موجودگی کوقانونی طورپرچیلنج کرنےاور لداخ کےباشندوں کےلیے آوازاٹھانےکےپاداش میں گرفتارکیے گئےقوم پرست رہنمااورجی بی یوایم کےسربراہ منظورحسین پروانہ کی گرفتاری پرتبصرہ کرتےہوئےبھارتی اخبارمیں کہاگیاہےکہ مقبوضہ کشمیرکےدونوں اطراف میں فرق یہ ہےکہ بھارتی زیرقبضہ علاقےمیں علیحدگی پسندوں کواتنی آزادی حاصل ہےکہ وہ نئی دلی میں پاکستانی وزیرخارجہ اورسیکریٹری خارجہ سےملاقات کرسکتےہیں جبکہ پاکستان کےزیرقبضہ علاقوں میں قوم پرستوں پرقدغن کی حدیہ ہےکہ انہیں جائزمطالبات پربھی قیدبندکی صعوبتیں برداشت کرناپڑتی ہیں۔ منظورپروانہ نےحال ہی میں سپریم اپیلٹ کورٹ میں ایک ریٹائرڈجج کی بطورچیف جسٹس تعیناتی کوسپریم کورٹ میں چیلنچ کیاتھا۔انہوں میں اسکردومیں بالاورستان نیشنل فرنٹ کےجلسےمیں کہاتھاکہ گلگت میں پاکستانی سیکیورٹی فورسزاورسولینزکی تعیناتی غیرقانونی اورغیرآئینی ہے۔منظورپروانہ نےپاکستان کوفوری طورپرگلگت بلتستان سےاپنی مسلح افواج کوواپس بلانےکامطالبہ کیاتھاجس کےبعدپاکستان پیراملٹری فورسزاورانٹیلی جنس اداروں نے مشترکہ کارروائی کرکےانہیں اسکردوسےگرفتارکرلیا۔
حال ہی میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سیدمہدی شاہ نےگلگت بلتستان کوسپریم کورٹ کےدائرہ اختیارسےخارج قراردیاتھا۔کرپشن کےالزامات کےتحت سپریم کورٹ کےسخت فیصلوں کےخلاف ملک کےصدراوروزیراعظم کی جانب سےدی گئی اس ترغیب کےبعدسپریم کورٹ نےخاموشی اختیارکرلی۔اس سےقبل سپریم اپیلٹ کورٹ کےچیف جسٹس نوازعباسی نےبھی سپریم کورٹ کےفیصلوں کےخلاف یہی موقف اپنایاتھا۔پاکستان آئین اورقانون کےتناظرمیں دیکھاجائےتویہ واضح طورپرتوہیں عدالت کےزمرےمیں آتاہےلیکن اس کےباوجودان دونوں حضرات کےخلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔اس کامطلب یہ ہےکہ حکومت پاکستان نےعملایہ تسلیم کرلیاہےکہ جوڈی فیکٹوسسٹم گلگت بلتستان میں رائج ہےاس کانہ کوئی آئینی جوازہےنہ قانونی ۔اس کےباوجودمنظورپروانہ کےخلاف کارروائی ناقابل فہم ہے۔

Special report by Rahat Ali Shah

No comments:

Post a Comment