Saturday, July 30, 2011

Using Disputed Status for vested interest

 گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کاناجائزمقاصدکےلیےاستعال بندہوناچاہے

گلگت بلتستان کی مخصوص بین الاقوامی حیثیت کوذاتی مفادات کےحصول کےلیےہتھیارکےلیےطوراستعمال کرنےکاسلسلہ عرصہ درازسےجاری ہے۔لیکن اس عمل کاعوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی اورخطےکی متنازع حیثیت کواجاگرکرکےمسئلےکےحل کی جانب پیش قدمی سےکوئی تعلق نہیں ہے۔
مسلم لیگ(ن)کےمقامی رہنمامرحوم سیف الرحمان نےاسی ہتھیارکامثبت استعما ل کرتےہوئےگلگت بلتستان میں غیرقانونی گاڑیوں کےخلاف آپریشن کورکوادیاتھا۔سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان کےموجودہ چیرمین جسٹس(ر) نوازعباسی کوجب مشرف کی جانب سےتعینات کیےجانےکےپاداش میں کارروائی کاسامناکرناپڑاتوانہوں نےغیرمقامی ہونےکےباوجوداس ہتھیارکابھرپوراستعمال کرتےہوئےاپنےآپ کوبچالیااوراب بھی وہ اپنےعہدےپرقائم ہیں اور اب وزیراعلیٰ مہدی شاہ نےایک اعلیٰ بیوروکریٹ کےتبادلےکےسلسلےمیں سپریم کورٹ کےفیصلےکےخلاف اسی ہتھیارکااستعمال کرتےہوئےموقف اپنایاہےکہ سپریم کورٹ گلگت بلتستان کےمعاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی۔
اس بات سےقطع نظرکہ سپریم کورٹ گلگت بلتستان کےمعاملےمیں کسی قسم کی مداخلت کرسکتی یانہیں سوال یہ پیداہوتاہےکہ مہدی شاہ صاحب اچانک ہی پاکستانی اداروں کےمقابلےمیں متنازع خطےکےپاسبان کےطورپرسامنےکیسے آگئے۔کیا وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کےپاس اتنےاختیارات ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کومتنازعہ خطےمیں کسی بھی اعلیٰ بیوروکریٹ کےتقرری اورتبادلےکےسلسلےمیں وزیراعلیٰ سےمشاورت سےمشروط کردےاوراگرکسی بیوروکریٹ کی تقرری یاتبادلہ ان کی مرضی کےبرخلاف ہوتووزراعلیٰ اسے مستردکردے؟کیا گلگت بلتستان میں تعینات تمام غیرمقامی بیوروکریٹس وزیراعلیٰ کی مرضی سےتعینات ہیں؟اورآئندہ جتنی تقرریاں ہوں گی وہ سب وزیراعلیٰ سےمشاورت کےنتیجےمیں ہوں گی؟کیاگلگت بلتستان کےبیوروکریٹس کی کھڑےلائن لگانےمیں وزیراعلیٰ کی تائیدحاصل ہے؟وزیراعلیٰ کےبیان کےتناظرمیں دیکھاجائےتو گلگت بلتستان میں فوج اورسول انتظامیہ کی جوعمارت قائم ہےیہ غیرقانونی اورتجاوزات ہے۔جب سپریم کورٹ متنازعہ خطےمیں مداخلت نہیں کرسکتی توکیافوج اورسول بیوروکریسی کرسکتی ہےاورسب سےاہم یہ کہ گلگت بلتستان سیلف گورننس آرڈربھی غیرقانونی ہےکیوں کہ یہ ایک صدارتی آرڈیننس ہےجسےاقوام متحدہ اوردیگراسٹیک ہولڈرزسےمشاورت کےبغیراورتنازع کشمیرکےسلسلےمیں موجودتمام مروجہ قوانین کوپس وپشت ڈالتےہوئےنافذکیاگیاہے۔
واضح رہےکہ سپریم کورٹ نےحج کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات کےدوران ہٹائےگئےڈی جی ایف آئی اےحسین اصغرکو عہدےپر بحال کرنےکوحکم دیاتھا۔وزیراعلیٰ کوپاکستانی اداروں کی گلگت بلتستان کےمتنازعہ ہونےکی یاد اس وقت آگئی جب انہیں اپنےسیاسی آقاؤں کےکرپشن اوردیگرناجائزکرتوت منظرعام پرآنےکاخطرہ لاحق ہوگیا۔پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت کوپہلےہی بدترین کرپشن کےالزامات کاسامناہے۔پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت سمیت بیشتررہنماوں نےبےنظیربھٹوکےگزشتہ دوادوارمیں قومی خزانےسےجس طرح ہاتھ صاف کیےاس کی مثال دنیامیں کہیں اورملتی۔کرپشن کےپاداش میں پیپلزپارٹی کاجونقصان ہوااس کااندازہ اس بات سےلگایاجاسکتاہےکہ 1997کےعام انتخابات میں پیپلزپارٹی کوقومی اسمبلی کی محض چندنشستیں پرکامیابی حاصل ہوئی اورپاکستان کی انتہائی مقبول سیاسی رہنماہونےکی دعوےداربےنظیربھٹو کوملک چھوڑکربھاگناپڑا۔پھرواپسی کےلیےفوجی آمرسےمک مکااوربین الاقوامی قوتوں کےسامنےہاتھ پھیلانےپڑے۔اس تلخ تجربےسےسبق حاصل کرکےامورحکومت شفاف طریقےسےچلانےکےبجائے پی پی کی موجودہ سیاسی قیادت نےاپنےپرانےروش کوجاری رکھتےہوئےکرپشن کےنئےرکارڈ قائم کردیےہیں۔اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیابھرمیں پاکستان پیپلزپارٹی کےکرپشن کاچرچہ ہے۔جس پتھرکواٹھائیں نیچےسےکرپشن کےچھپائی گئی رقم نظرآتی ہے۔یہی وجہ ہےکہ وزیراعظم سمیت پارٹی کےاہم رہنماوں کوان کےدورحکومت میں ہی عدالتوں میں طلبی کاعمل شروع ہوچکاہے۔اس سلسلےمیں حسین اصغرنےوزیراعظم کےبیٹےعبدالقادرگیلانی کوحج کرپشن اسکینڈل میں ملوث پاکرتحقیقات کمیشن میں جواب دہی کےلیےطلب کرنےکی گستاخی کی تھی جس پرانہیں ڈی جی ایف آئی اےکےعہدےسےہٹاکرآئی جی گلگت بلتستان تعینات کردیاگیاجس کےبعد وزیراعظم کےبیٹےکےخلاف تحقیقات کاسلسلہ پس منظرمیں چلاگیا۔حقیقت حال یہ ہےکہ گزشتہ ہفتےسپریم کورٹ نےحسین اصغرکوپرانےعہدےپربحال کرکےحج کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات مکمل کرنےکاحکم دیاتوپیپلزپارٹی کی قیادت نےیہ عمل رکوانےکےلیےاپیلٹ کورٹ کےچیف کاراستہ اپناتےہوئےمہدی شاہ صاحب کےکندھےکابھرپوراستعمال کیا۔
پیپلزپارٹی کےرہنمااپنےکرپشن چھپانےکےلیےکونساراستہ اختیارکرتےہیں اوراس کاکیانتیجہ برآمدہوگایہ الگ بحث ہے۔ہماراموضوع یہ ہےکہ عام طورپرگلگت بلتستان کےموجودہ منتخب سیاسی شخصیات خطےکوپاکستان کا شہ رگ،سرکاتاج اورسیاسی جماعتوں کاگڑھ قراردیتےنہیں تھکتے۔جب کوئی قوم پرست خطےکی بین الاقوامی حیثیت کاحال بیان کرتاہےتویہ منتخب سیاستدان اسےغداراورغیرملکی ایجنٹ قراردینےمیں ایک لمحےکی بھی دیرنہیں لگاتے۔لیکن جب ان کی ناجائزطورپرجمع کی گئی دولت خطرےمیں نظرآتی ہےتوانہیں خطےکی متنازعہ حیثیت یادآنےلگتی ہے۔اورجب بلیک میلنگ ،لوٹ مار،من مانیوں اوردیگرناجائزمقاصدحاصل ہوتےہیں توایک بارپھریہ حضرات مادروطن کی حقیقی حیثیت کویکسربھول جاتےہیں اورکوئی اسےلاڑکانہ قراردینےلگتاہےتوکوئی نائن زیرواورکوئی رائےونڈ۔کچھ سال قبل مسلم لیگ(ن)ہردلعزیزمرحوم رہنمانےغیرقانونی گاڑیوں کےخلاف کارروائی رکوانےکےلیےاس حیثیت کااستعمال کیا۔اس کےخطےکےغریب عوام مثبت اثرات مرتب ہوئےلیکن آج ان کےسیاسی جانشین اوربھائی حافظ حفیظ الرحمان متنازعہ خطےکےغریب عوام کوٹیکس چورقراردیکرانہیں ٹیکس نیٹ میں لانےکامطالبہ کررہےہیں۔حالانکہ چنددن بھی ہی انہوں نےخودہی تسلیم کیاہےکہ گلگت بلتستان سےوفاق کوجتناٹیکس جاتاہےاس کےادھےسےکم بجٹ دیاجاتاہے۔ اسی طرح پیپلزپارٹی سےتعلق رکھنےوالےوزیراعلیٰ صاحب کواس بات کابھرپوراندازہ ہوگاکہ جب مرکزکےموجودان کےسیاسی آقاؤں کےگردن قانون کےشکنجےمیں آنےلگیں گےتووہ خودبھی نہیں بچ پائیں گے۔کیوں کہ وزیراعلیٰ پرکرپشن کےالزامات لگ رہےہیں۔ان پرکرپشن کےتازہ الزامات میں ایک ایسی غیرملکی کمپنی کومائننگ لائسنس دینےکاالزام بھی شامل ہےجسےیورینیم کی آفزودگی کےلیےاستعمال ہونےوالےانتہائی قیمتی پتھرگلگت بلتستان سےنکال کربھارت کواسمگل کرنےکاالزام ہے۔اس سلسلےمیں گلگت بلتستان کےقدرتی وسائل کاچرچاکرنےوالی اورچین کی کمپنیوں کوٹھیکےدینےکےخلاف واویلاکرنےوالی کچھ قوم پرست جماعتوں کی پراسرارخاموشی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔
گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کاہتھیاراگر65سال سےجاری غلامی سےجان چھڑانےکےلیےاستعمال کیاجاتاتوآج ہماراشماربھی دنیاکی خودکفیل قوموں میں ہوتااورہم بھی دنیاکی مہذب قوموں میں شامل ہوتے۔قدرتی وسائل سےمالامال،اہم ترین حغرافیائی حدوداوراعلیٰ ترین ثقافتی اقدارکامالک ہونےکےباوجودہم آج تک دنیاکےنقشےپر اپناشناخت نہیں بناسکےاس کی وجہ نہ کوئی دوسراملک یاعالمی سیاست ہے،جیساکہ ہمارےیہ نام نہادسیاسی رہنما اپنےگناہوں کوبوجھ دوسروں پرڈال کرقوم کوگمراہ کررہےہوتےہیں، بلکہ ہماری یہ منافقانہ سوچ ہے۔اگراب بھی اہم نےاپنےان گمراہ سوچوں سےجان نہیں چھڑائی اوراپنےرویےمیں تبدیلی نہیں لائی تونسل درنسل غلامی کاطوق پہنےتاریخ کی تاریک راہوں میں گم ہوجائیں گے۔
Rahat Ali Shah

No comments:

Post a Comment