Friday, July 22, 2011

Growing public anger over CM's Mining licence scandle

پابندی کےباوجودوزیراعلیٰ مہدی شاہ نےغیرملکی کمپنی کومائننگ لائسنس جاری کردیا

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان سیدمہدی شاہ نےہانگ کانگ کی کمپنی کومائننگ لائسنس جاری کرکےقانون سازاسمبلی کی قراردادکےپرخچےاڑادیے۔
گزشتہ ماہ گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی نےایک متفقہ قراردادمنظورکی تھی جس کےتحت گلگت بلتستان میں کسی بھی غیرملکی کمپنی کوقیمتی پتھراورمعدنیات تلاش کرنےکےلائسنس جاری کرنےپرمکمل پابندی عائدکی گئی تھی تاہم معلوم ہواہےکہ وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ نےہانگ کانگ کی کمپنی محسن انڈسٹریزکوخفیہ طورپرلائسنس جاری کردیاہے۔جس کےتحت کمپنی نے گلگت بلتستان میں معدنیات کی تلاش کاکام شروع کردیاہے۔ محسن انڈسٹریزپرپہلےہی گلگت بلتستان میں پابندی عائدہے۔یہ کمپنی ہانگ کانگ کےشہری وانگ زنیو کی ملکیت ہےجن پرالزام ہےکہ انہوں نےگلگت بلتستان سےملنےوالےانتہائی قیمتی پتھربلیک منرل کی بڑی مقدار بھارت اسمگل کی جوکہ یورینیم کی آفزودگی کےلیےاستعمال کیاجاتاہے۔
قانون سازاسمبلی میں نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکمران جماعت پیپلزپارٹی کےاندربھی وزیراعلیٰ کےاس اقدام پرسخت ناپسندیدگی کااظہارکیاگیاہے۔انگریزی اخبارایکسپریس ٹریبیون کےمطابق پیپلزپارٹی سےتعلق رکھنےوالےارکان نےغیرملکی کمپنی کولائسنس کےاجراکوگلگت بلتستان کےوسائل پرڈاکہ قراردیاہے۔اخبارنےپیپلزپارٹی کےرکن اسمبلی کےحوالےسےلکھاہےکہ مہدی شاہ نےقومی مفادپرذاتی مفاد کوترجیح دی ہے۔اراکین اسمبلی کی اس شدیدتشویش سےمعاملےکی سنگینی کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔دوسری طرف سیدمہدی شاہ کےاس حرکت پرعوام میں بھی زبردست غم وغصہ پایاجاتاہے۔گلگت بلتستان ٹریبیون سےگفتگوکرتےہوئےایک شہری گل نادرنےکہاکہ مہدی شاہ صدرزرداری کےصحبت میں رہ کر بدعنوانی کےذریعےناجائزدولت اکھٹاکرنےکےنئےنئےگرسیکھ چکےہیں۔اب انہیں روکناآسان نہیں ہوگا۔مہدی شاہ کےنزدیک قومی مفادکی کوئی اہمیت نہیں۔وہ دولت کےحصول کےلیےضمیرکےسودےپراترآئےہیں۔ان سےجتنی جلدہوسکےجان چھڑائی جائےورنہ یہ پورےگلگت بلتستان کوکھاجائےگا۔
وزیراعلیٰ سمیت گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی کےاراکین کوپہلےہی کرپشن کےالزامات کاسامناہے۔تاہم اس کےروک تھام کےلیےکوئی اقدام نہ اٹھانےکےباعث کرپشن کی حوصلہ افزائی ہورہی ہےاوروزیراعلیٰ کی قیادت میں اراکین کھلےعام لوٹ مارمیں مصروف نظرآتےہیں۔

No comments:

Post a Comment