Saturday, May 7, 2011

Gilgit Baltistan again set to Boycott the Shandur festival

گلگت: وزیراعلیٰ گلگت بلتستان مہدی شاہ نےکہاہےکہ چترال اورغذرکےدرمیاں سرحدکاتنازع حل نہیں ہواتو اس سال بھی شندورمیلےکابائیکاٹ کیاجائےگا۔ ایک مقامی اخبارکودیےگئےانٹرویومیں مہدی شاہ نےکہا کہ شندورگلگت بلتستان کاحصہ ہےجس پرصوبہ سرحدنےغیرقانوی قبضہ کررکھاہے اورشندور میلےکےانتظامات کی ذمےداری بھی مکمل طورپرصوبہ سرحدکودی جارہی ہےجس پرگلگت بلتستان کےشدید تحفظات ہیں۔ یہ دیرینہ مسئلہ اہل چترال اوراہل غذرکےدرمیان اکثرتصادم کاباعث بن رہاہے۔ہمارامطالبہ ہے کہ شندورکوغذرکاحصہ تسلیم کیاجائےاوریہاں ہونےوالےسالانہ میلےکاانتظامات کی ذمےداری بھی ہمیں سونپی جائےبصورت دیگرمیلےکابائیکاٹ کیاجائےگا۔ شندورمیلہ ہرسال جولائی کےپہلےیادوسرے ہفتےمیں منعقد ہوتاہے۔گزشتہ سال بھی گلگت بلتستان نےشندور میلےکابائیکاٹ کیاتھاجس کےبعد میلے میں صرف چترال کی مقامی ٹیموں نےحصہ لیا۔ تاریخی شندورمیلہ گلگت بلتستان اورچترال مشترکہ اثاثہ ہےجس میں دونوں علاقوں کی ثقافت دنیامیں اجاگرہونےکےساتھ ساتھ سیاحت کی صورت میں آمدنی حاصل ہوتی ہےلیکن اس تنازعےکے باعث ایک طرف شندورکاتاریخی میلہ اپنی افادیت کھورہاہےدوسری طرف غذراورچترال کےعوام کےدرمیان تلخیاں بڑھ رہی ہیں۔ 

No comments:

Post a Comment