Monday, April 11, 2011

انکل ٹام سے انکل سام تک

میں نے اپنی پچھلی پوسٹ میں ایک مثال پیش کی تھی عراق پر تاتاریوں کے حملے کے حوالے سے کے جس وقت تاتاریوں نے عراق پر حملہ کیا اس وقت عراق کے علماء و عمائدین مناظروں میں لگے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کی دھجیاں بکھیر رہے تھے۔

انکل ٹام صاحب نے مجھہ سے حوالہ طلب کرلیا اس تاریخی حقیقت کا، عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ تو بہت ہی معمولی سی مثال ہے امت مسلمہ کے رویے کی ایسی ہزاروں مثالیں ایسے ہزاروں حقائق موجود ہیں جن سے امت مسلمہ چاہ کر بھی چشم پوشی نہیں کرسکتی، کہ جس وقت دنیا اپنی لگی بندی ذہنیت سے نکل کر انقلابی تبدیلیوں کی طرف جا رہی تھی اس وقت ہم مسلمان کن کن بیہودہ کاموں میں اپنی توانائی صرف کررہے تھے اور آج تک کر رہے ہیں۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں ایسی ہی چند حقیقتوں کا۔

سلطنت عثمانیہ کا زوال تو پندھرویں صدی کے بعد سے ہی شروع ہوگیا تھا پندھرویں صدی کے بعد سے لے کر انیس سو بائیس(1922) تک مسلمان اقتدار کے لیے آپس میں ہی لڑتے رہے، نسل پرستی، قوم پرستی، مذہبی تفرقے، جدت کو کفر قرار دینا، یہ سب بنیادی اسباب بنے مسلمانوں کے زوال کے، جس وقت سلطنت عثمانیہ کے ہاتھہ سے ایک ایک کر کے ملک نکل رہے تھے اس وقت کیا کررہے تھے مسلمان؟ انجام انیس سو تئیس(1923) میں سطنت عثمانیہ کے مکمل خاتمے کی صورت میں ہوا۔ دوسری جنگ عظیم تک امریکہ ایٹم بم بنا چکا تھا اور انیس سو پینتالیس(1945) میں جاپان پر گرا بھی چکا تھا، یہ وہ وقت تھا جب امت مسلمہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوب چکی تھی.

جس وقت انگریزوں نے برصغیر پر قبصہ کیا اس وقت بہادر شاہ ظفر شعر و شاعری کی محفلیں گرم کرنے میں لگے ہوئے تھے اور رعایا کبوتر بازی میں لگی ہوئی تھی، جس وقت اسرائیل ڈرون بنا رہا تھا قذافی اس وقت لڑکیوں کی فوج اپنے گرد جمع کر کے خیمے آباد کر رہا تھا، سوئیڈن کا بادشاہ جس وقت میٹرنٹی سسٹم کو ڈیولپ کر رہا تھا تاکہ اس کی بیوی کی طرح کسی کی بیوی زچگی کے دوران ناقص علاج کی وجہ سے نہ مرے، تو شاہ جہاں اس وقت ممتاز کے عشق میں ( جس کا انتقال چودھویں بچے کی پیدائش میں ہوا تھا ) تاج محل تعمیر کروا رہا تھا.

جو لوگ ترک خلیفہ کے پاس پرنٹنگ پریس لے کر آئے انہیں یہ کہہ کر بھگا دیا گیا کے یہ شیطانی چرخہ ہے اس سے ہمارے وہ لوگ بیروزگار ہو جائیں گے جو ہاتھہ سے خطاطی کرتے ہیں جدت کو کفر قرار دیا گیا، مجبوراً ان لوگوں نے جرمنی میں اس نظام کو متعارف کروایا۔

دور کیوں جاتے ہیں جس وقت ہمارے ہاتھہ سے مشرقی پاکستان گیا اس وقت کیا کررہے تھے ہم لوگ؟ شہاب نامہ پڑھیئے گا کبھی جس میں قدرت اللہ شہاب صاحب نے لکھا ہے کہ میرے حساب سے تو مشرقی پاکستان اس دن ہی الگ ہوگیا تھا جس دن کچھہ سینیٹری کا سامان امپورٹ کیا گیا اس میں لوٹے بھی تھے تو مشرقی پاکستان کے زمہ داروں نے کہا کے ہمارے حصے کا سامان ہمیں دیا جائے جواب میں کہا گیا کے تمہیں اس سامان کی کیا ضرورت ہے تم تو کیلے کے چھلکے سے نجاست صاف کرنے والے لوگ ہو۔

صدام حسین نے کویت پر صرف دو گھنٹے میں قبضہ کرلیا تھا، کیا کر رہے تھے اس وقت کویت کے حکمران؟ ایک سو پچاس(150) بیگمات نکلی تھیں کویت کے بادشاہ کے حرم سے، کویت پر عراق کے قبضے کے بعد سعودی عرب کی مقدس زمین کے رکھوالے اور مجاہدین اسلام کہاں تھے اور کیا کررہے تھے؟ کہ جب سعودی عرب کی مقدس زمین کی حفاظت کے لیے سعودی حکمرانوں کو کفر کی علامت امریکہ کا سہارا لینا پڑا؟ جو کے آج تک سعودی زمیں کی حفاظت پر معمور ہیں۔

آج دنیا تعلیم میں ٹیکنالوجی میں کہیں سے کہیں نکل گئی تو ہم آج بھی کیا کر رہے ہیں؟ دنیا یونیورسٹیز بنا رہی ہے لیبارٹریز بنا رہی ہے ریسرچ سینٹرز بنا رہی ہے، ہم مدرسے بنا رہے ہیں ہم خود کش بمبار بنا رہے ہیں، پوری مسلم امہ میں اتنی یونیورسٹیاں نہیں ہیں جتنی صرف انڈیا میں ہیں۔ آٹھہ ہزار چارسو(8400) یونیورسٹیاں ہیں انڈیا میں۔ مہذب دینا اور ہمارے درمیان ہر گزرتے روز کے ساتھہ ایک صدی کا فرق پیدا ہورہا ہے، کوئی سوچتا ہے اس طرف؟ نعرے سنو ان جاہلوں کے امریکہ کے خلاف اعلان جنگ کر دو، انڈیا پہ حملہ کر دو، بھوکی ننگی قوم دس دن کا راشن نہیں ہے پاس، بیکار کی جہالت سے بھری جذباتی تقریریں کروالو ان سے۔ ایچ ای سی کو ختم کیا جارہا ہے جس کے لیے پورے پاکستان میں شور پڑا ہوا ہے، لاکھوں ڈالرز کی بھیک دیتے ہیں امریکہ اور یورپ ہمیں تعلیم کی مد میں تب یہ ادارہ چلتا ہے اور لوگ ہائر ایجوکیشن لے پاتے ہیں اس پر احسان فراموشی دیکھو کے یہ امریکہ کے پیسے سے ہی ہائر ایجوکیشن لینے والے چند مذہب فروش بلیک میلروں کے اکسانے پر امریکہ کے ہی خلاف بھونک رہے ہوتے ہیں بھیک بھی چاہیئے حقوق بھی چاہئیں آزادی بھی چاہئیے، بھکاری کے پاس بارکنگ پوزیشن ہوتی ہے کیا ؟

تعلیم ہی واحد ذریعہ ہے دنیا کے برابر آنے اور خود کو منوانے کا۔ یہ جذبات فروش کہتے ہیں کے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی جائے، کوئی ان جاہلوں کو بتائے کہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال بات کرنے کے لیے قد کا برابر ہونا ضروری ہوتا ہے، اور فی الحال ہم ہی کیا پوری مسلم امہ کا یہ حال ہے کہ امریکہ کی آنکھیں تو کیا تلوے بھی دور کہیں بہت دور نظر آرہے ہیں۔

جس وقت امریکہ چاند پر پہلا قدم رکھہ رہا تھا ہم اس وقت زمین پر ٹھیک سے نہیں چل پا رہے تھے، زمیں پر تو ہم آج تک بھی ٹھیک سے نہیں چل پا رہے ہیں، اپنے ٹریفک نظام پر غور فرما لیجئیے گھنٹوں سڑکوں پر ٹریفک جام رہتا ہے، سڑکوں کے بجائے آئی لینڈ پر گاڑیاں چل رہی ہوتی ہیں، تو بھائی میرے معمالات کو سمجھیں حقیقت کو پہچانیں جذباتیت سے باہر آئیں پھر معاملات کو سمجھنے کی کوشش کریں، ان سب سیاسی اور مذہبی جانوروں سے جان چھڑانی ہوگی یہ نہ ہمیں پڑھنے دیں گے نہ شعور لینے دینگے نہ ہی کبھی حق اور صحیح راہ دکھائیں گے.

ان سب کا مفاد قوم کے جاہل رہنے میں ہی ہے جب تک یہ قوم جاہل رہے گی تب تک ہی ان سب کی سیاسی اور مذہبی دکانیں چلتی رہیں گی، اسلیے خود بھی ان درندوں سے بچیں اور اپنی آنے والی نسل کو بھی ان سب ناپاک لوگوں سے دور رکھیں.

اب یقیناَ آپ کی سمجھہ میں آگیا ہوگا کہ ہم مسلمان کیا کرتے رہے ہیں اور آج تک کیا کررہے ہیں۔ مثالیں تو انتی ہیں کہ تفصیل سے لکھنے بیٹھا جائے تو پوری پوری کتابیں لکھہ دی جائیں فی الحال تو اتنے حقائق ہی کافی ہیں آپ کے سوال کے جواب میں۔

بشکریہ fikrepakistan

No comments:

Post a Comment