Wednesday, October 13, 2010

Boundary row dispute should be settled first: Atta Ullah

GILGIT: The boundary dispute between Gilgit Baltistan (GB) and Khyber Pakhtunkhwa (KP) should be settled prior to the construction of Bhasha Diamer dam, said Atta Ullah, president, Affecties of Bhasha Dam Committee on Monday.

"The situation will be complex in the coming days if encroachment by Khyber Pakhtunkhwa is not checked,” said Atta Ullah.

Atta Ullah said that, during the chairman of Wapda Shakil Durrani’s visit, KP police crossed the boundary to provide security to Durrani. He regretted that the Wapda chief never met the people of Diamer to take note of their grievances.


بھاشاڈیم کی تعمیرسے پہلے سرحدی حدودکاتعین کیاجائے،عطاءاللہ

گلگت: بھاشاڈیم کی تعمیرپرکام شروع کرنے سے قبل گلگت بلتستان بلتستان اورصوبہ سرحدکے درمیاں سرحدی حدود کاتنازعہ حل کیاجائے۔

یہ بات متاثرین بھاشا ڈیم کمیٹی کے چیرمین عطاءاللہ نے ایک موقرانگریزی اخبارسے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ صوبہ سرحدکی جانب سےگلگت بلتستان کی حدبندی میں غیرقانونی تجاوزات کاسلسلہ جاری اورسرحدحکومت گلگت بلتستان کے بڑے علاقے کادعوے دار بن بیٹھی ہے۔یہ سلسلہ بند نہیں ہواتوحالات خراب ہوسکتے ہیں۔

عطاءاللہ نے کہاکہ گزشتہ روز چیرمین واپڈاشکیل درانی کے دورے کے موقع پربھی خیبرپختونخواپولیس نے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی۔چیرمین واپڈانے اپنے دورے میں دیامرکے متاثرین سے ملاقات نہیں کی۔ 

گزشتہ ماہ گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی میں یہ بات زیربحث آئی تھی کہ ہزارہ قومی موومنٹ نامی کوہستان کی ایک سیاسی تنظیم کی جانب سےضلع دیامرکے علاقے میں جھنڈے نصب کردیے گئے ہیں اوراسے خیبرپختونخواکاحصہ قراردیاگیاہے۔

اس طرح کاتنازعہ گلگت بلتستان اورخیبرپختونخواکے درمیان شندورکی ملکیت کے معاملے پرچل رہاہے۔شندورگلگت بلتستان اورچترال کی قدیم ثقافت اورتاریخی روایات کاآئینہ دارہے جہاں ہرسال پولو اوردیگرکھیلوں کاانعقاد کیاجاتاہے۔لیکن خیبرپختونخوانے شندورکاانتظام مکمل طورپراپنے قبضے میں لیاہواہےجوکہ غیرقانونی اورخطے کی ثقافت کوتباہ کرنے کے مترادف ہے۔اب دیامرکے علاقے کوہتھیانے کے لیےمختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔ ہربن نالہ پربنے پل سے جنوب کی طرف حکومت گلگت بلتستان کوایک سائن بورڈلگاہواہےجواس بات کاثبوت ہے کہ یہ علاقہ گلگت بلتستان کوحصہ ہے۔ لیکن اب پل سے گلگت کی طرف متعدد مقامات پرہزارہ موومنٹ نےسائن بورڈاورجھنڈے لگادیے ہیںاورپہاڑپرچاکنگ بھی کی ہے جس میں علاقے کوہزارہ کاحصہ قراردیاگیاہے۔

گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی میں زیربحث لائےجانے کے باوجوداس معاملے کو سنجیدہ نہ لینا انتہائی تشویشناک ہے اوراگرمعاملے کونظراندازکیاگیاتوکوئی شک نہیں کہ شندورکی طرح دیامرکے بیشترعلاقے گلگت بلتستان کے کنٹرول سے نکل جائیں گے۔

No comments:

Post a Comment