Sunday, October 24, 2010

غربت کے خاتمے کی تمام سرکاری اسکیمیں جیالوں کے حوالے

وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں غربت کے خاتمے کے لیے شروع کی گئیں تمام اسکیموں اورسیلاب متاثرین کےفنڈز پیپلزپارٹی کے جیالوں کے ذریعے تقسیم کرنےعمل شروع کردیاہے۔تفصیلات کے مطابق بینظیرانکم سپورٹ پروگرام اوروسیلہ حق کے تحت غربت کے خاتمے کےلیےحکومت نے جواسکیمیں شروع کیں ہیں نہ صرف ان کے تمام فنڈزپیپلزپارٹی کے جیالوں کے ذریعے تقسیم کیے جارہے ہیںبلکہ تباہ کن سیلاب کے متاثرین کےلیے اعلان کیے گئے فنڈز بھی مستحقیین کے بجائےجیالوں کے حوالے کردیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت گلگت بلتستان میں 29ہزارخاندان پیسے وصول کررہے ہیں۔ ان خاندانوں کا انتخاب مستحقین کے بجائےسیاسی مفادات کے بنیاد پرکیاگیاہے۔سرکاری حکام، این جی اوکے کارکن،سیاستدان اوردیگرشعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اس بات پرمتفق ہیں کہ جولوگ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت فوائد حاصل کررہے ہیں ان کی بڑی تعداد اس کی مستحق نہیں ہے اورجولوگ اصل مستحق ہیں انہیں کچھ نہیں مل رہاہے۔

مسلم لیگ(ن)گلگت بلتستان کے صدرحافظ حفیظ الرحمان کاکہناہے کہ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے فارم پیپلزپارٹی کے کارکنوں کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتوں کوبھی دیے گئے تھے تاہم دیگرلوگوں کے ذریعے تقسیم کیے تمام فارم بعدمیں مستردکردیےگئے۔صرف وہ فارم قبول کیے گئے جوپی پی کے جیالوں کے ذریعےتقسیم کیے گئے تھے۔بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے ذرائع کاکہناہے کہ فنڈز کی تقسیم کانظام انتہائی غیر شفاف ہے۔
سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے جاری کیے گئے فنڈز کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق صرف گلگت ٹاون میں ساڑھ 40لاکھ روپے ایسے افراد میں تقسیم کیے گئے ہیں جن کاسیلاب میں ایک پیسے کابھی نقصان نہیں ہوا۔معلوم ہواہے کہ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے ہیڈکوارٹرکے جانب سے علاقائی دفترکوہدایت موصول ہوئی ہیں جن میں کہاگیاہےکہ سیلاب متاثرین کی فہرست مرتب کرکے صرف تین دن میں ہیڈکوارٹربھجوادی جائے ورنہ فنڈزجاری نہیں ہونگے۔ چونکہ اس قلیل عرصے میں لسٹ تیارکرناممکن نہیں تھا اس لیے پروگرام کے حکام نے انہیں افراد کے نام بجھوادیے جوپہلے ہی پیسے وصول کرچکے ہیں۔
غربت کے خاتمے کےلیے شروع کی گئی ایک اوراسکیم وسیلہ حق کے تحت فنڈز آئندہ چند ماہ میں جاری کئے جائیں گےتاہم گزشتہ اسکیموں میں جوبدعنوانیاں منظرعام پرآئیں ہیں ان کومدنظررکھتے ہوئےفنڈ کےاستعمال میں غیرجانبداری اورشفافیت کی توقع نہیں کیا جاسکتا۔حکام کے مطابق گلگت بلتستان سے 100مستحقین کے انتخاب کے لیے قرع اندازی جلد کی جائے گی،

No comments:

Post a Comment