Monday, September 6, 2010

Sectarian voilence grips Ghizer, dozens injured

Gahkuch, September 6: 13 people injured when armed men attacked a protest rally organized against the district Superintendent of Police (SP) for alleged derogatory remarks against the people of Ghizar.

According to details the SP used abusive language against people of Ghizar yesterday in Gahkcuh where a group of people had gathered to obtain flour and wheat bags provided by the Civil Supplies Department.

Source said that some people accused the SP Wasil Khan of favoring people belonging to a particular sect over the other during distribution of wheat and flour bags. The SP Wasil Khan allegedly used abusive language against the people of Ghizar and warned them of dire consequences. A section of the enraged public, reportedly, manhandled the SP and forced closure of markets in protest.


فرقہ وارانہ فسادات نے غذرکوبھی لپیٹ میں لے لیا،تصادم میں درجنوں افرادزخمی

گاہکوچ:  اشتعال انگیززبان استعمال کرنے پرایس پی کے خلاف غذر کے عوام سڑکوں پرنکل آئے،مظاہرے کے دوران متحارف گروپوں کے درمیان تصادم میں13 افراد زخمی ہوگئے۔
 تفصیلات کے مطابق اتوار کے روز گاہکوچ میں سول سپلائی کی جانب سے راشن کی تقسیم کے دروان ایس پی غذروصل شاہ نے عوام کے خلاف انتہائی توہین آمیززبان استعمال کی جوعوام میں شدیداشتعال کاباعث بنا۔ذرائع کے مطابق راشن کی تقسیم کے دوران مقامی آبادی سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد نےایس پی وصل شاہ کےخلاف احتجاج کیا،مظاہرین کاکہناتھاکہ وصل شاہ راشن کی تقسیم میں اپنے متعلقہ فرقے کے لوگوں کوترجیح دے رہے ہیں۔جبکہ مقامی آبادی کو راشن سے محروم رکھاجارہاہے۔اس پرایس پی وصل شاہ نے مظاہریں کے تحفظات دورکرنے کے بجائےعوام کے خلاف انتہائی نازیبہ اورتوہین آمیززبان استعمال کی جس پرمقامی آبادی احتجاجاً سڑکوں پرنکل آئی اورایس پی کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔احتجاج کے دوران ایس پی کی حمایت میںدوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے مظاہرین پرحملہ کردیا۔ جس کے نتیجے میں 13افراد زخمی ہوگئے۔زخمیوں میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔جسے گلگت منتقل کردیاگیا۔مظاہرین کاکہناتھاکہ فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کی سازش کرنےکے جرم میں ایس پی غذرکے خلاف فوری طورسخت کارروائی کیاجائے۔ورنہ عوام خود کارروائی کرنے پرمجبورہوجائیں گے جس سےامن وامان کوشدیدمسئلہ پیداہوسکتاہے۔ واضح رہے ایس پی وصل شاہ نے گزشتہ سال قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے دوران شیرقلعہ میں بی این ایف کے جلسے پرفائرنگ کرکے ایک کارکن کوجاں بحق اورمتعددکوزخمی کردیاتھا۔اس وقت وصل شاہ انتخابات کے لیے تعینات اضافی دستے میں شامل تھے۔
 کشیدہ صورتحال کے باعث گاہکوچ میں سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اورگلگت سے پولیس کی اضافی نفری طلب کرلی گئی ہے۔ تاہم شہر اورگردونواح کے علاقوں میں شدید خوف وہراس پایاجارہاہے۔یہ امرقابل غورہے کہ گزشتہ روزگلگت شہرمیں بھی فرقہ وارانہ تصادم کے واقعات میں پولیس ملوث پائی گئی تھی جن میں4افرادجاں بحق اورمتعددزخمی ہوگئے تھے۔فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کے الزام میں گرفتارکیے گئے افراد میں تین پولیس اہل کاربھی شامل تھے جبکہ واقعے کے بعدبڑے پیمانے پرپولیس افسروں کے تبادلے کردیے گئے تھے۔۔یہ پہلاموقع ہے کہ امن کاگہوارہ کہلانے والے ضلع غذرکوفرقہ وارانہ فسادات میں جھونک دیاگیاہے جس  پولیس براہ راست ملوث ہے۔اگریہ واقع کسی شدت پسندیادہشت گردی تنظیم کے ہاتھوں پیش آتاتوبات سمجھ میں آجاتی لیکن  اگرعوام کی جان ومال کی حفاظت پرمعمور پولیس اہلکارکے ہاتھوں ایسے واقعات پیش آنے لگے تو اس کامداواکیسے کیاجاسکے گا۔دیکھنایہ کہ حکومت اس گھناونی سازش کے لیے کیاجوازپیش کرتی ہے۔عوامی حلقوں نےفرقہ وارانہ فسادات کے واقعات میں پولیس کے ملوث ہونے پرشدیدتشویش کااظہارکیاہے۔

No comments:

Post a Comment