Wednesday, September 1, 2010

India concerned over chinese presence in Gilgit Baltistan

گلگت بلتستان میں چینی فوج کی موجودگی کی خبروں پربھارت کوتشویش

گلگت بلتستان کوچین کے حوالے کیے جانے سے متعلق نیویارک ٹائمزکی تجزیاتی رپورٹ پراپنی تشویش سے بھارت نے چین کوآگاہ کردیاہے۔اس سلسلے میں بیجنگ میں تعینات بھارتی سفیرایس جے شنکرنے چین کے نائب وزیرخارجہ سے جمعے کوملاقات کی اوراس خبرپربھارت کی تشویش ان تک پہنچادی۔ سے انہیں آگاہ کیا۔شدیدتشویش کااظہارکیاہے۔ادھربھارتی راجیاسبھامیں اپوزیشن جماعت بے جے سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ نے اس خبرپرشدیدتشویش کااظہارکرتے ہوئے فوری طورتحقیقات کامطالبہ کیاہے۔راجیاسبھاکے زیروآورکے دوران گلگت بلتستان کامعاملہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی کورہنمانےکہاکہ بھارت کی خفیہ ایجنسیاں کس طرح سرحد پرچینی فوج کی اتنے بڑے پیمانے پرہونے والی سرگرمیوں کے بارے میں لاعلم رہیں۔کیاانٹیلی جنس کانظام اتناناقص ہوچکاہےکہ چینی فوج کی سرگرمیوں کی بھارتی خفیہ ایجنسیوں کوکانوں کان خبرنہ ہوئی۔ان کاکہناتھا کہ حال ہی میں چین میں منعقدہونے والے شنگھائی ایکسپو نمائش میں بھارتی اسٹالزسے بھارت نقشے پرمشتمل ایسے تمام بروشرزتلف کرلیے جن میں بھارتی ریاست ارن آچل پردیش کابھارت کاحصہ دکھایاگیاہے۔بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نےپارلیمنٹ کااجلاس طلب کرلیاہےجس میں گلگت بلتستان کوچین کے حوالے کیے جانے سے متعلق خبروں پربحث کی جائے گی، اجلاس میں دفاعی نظام کومزیدمستحکم کرتے ہوئے چین کی سرحدپرسیکیورٹی مزیدسخت کرنے کے منظوری دی جائے گی۔

No comments:

Post a Comment