Monday, August 16, 2010

Torrential rain, flood cause large scale damage in Yasin valley

 مون سون کی بارشوں اورسیلاب نے یاسین میں بڑے پیمانے پرتباہی مچادی
یاسین: حالیہ مون سون کی بارشوں کے باعث دریاوں میں آنے والے سیلاب اورلینڈ سلائیڈنگ نے ضلع غذرکے دیگرعلاقوں کے طرح وادی یاسین میں بھی تباہی مچادی۔سینکڑوں رہائشی مکانات،کھربوں روپے مالیت کی زرعی اراضی، کھڑی فصلیں،باغات اورجنگلات لینڈ سلائیڈنگ اوردریامیں بہہ چکے ہیں جبکہ متعددمقامات پرسڑکیں بہہ جانے کے باعث وادی کادیگرعلاقوں سے رابطہ منقطہ ہوچکاہے جس کی وجہ سے وادی میں قحط اوروبائی امراض پھیلنے کاخدشہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق گاؤں ترست میں تودہ گرنےسےبننے والی جھیل ٹوٹنے کے بعددریائے یاسین نے شدیدسیلاب کی شکل اختیارکرلی جس کے باعث ترست میں متعددگھراورکھڑی فصلیں دریابرد ہوگئیں،سیلابی ریلے نے برکلتی اورسندی میں بڑے پیمانے پرتباہی مچادی۔برکلتی پائین کے نشیبی مقامات پرزرعی اراضی اورجنگلات سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔ سیلابی ریلے نے سندی میں سینکڑوں گھراورکھڑی فصلیں بھی تباہ کردیں جبکہ سندی کوطاوس سے ملانے والا بینظیرپل بھی بہہ گیاجس کے باعث سندی کے لیےگاڑیوں کی آمدرفت منقطع ہوگئی۔سیلاب سے سلطان آبادکاوسیع علاقہ بھی متاثر ہوااورجنگلات اورکھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ادھرہندورنالے سے آنے والے سیلابی ریلےمیں نالے کےدونوں اطراف متعددگھروں بہہ گئے اورفصلیں تباہ ہوگئیں۔تھوئی میں بھی سیلاب سے 50 سے زائدگھرتباہ ہوگئے اور دورپل دریائی سیلاب میں بہہ گئے۔ سیلاب سے درکوت،موشک، یاسین،گندائے اوردملگن کے علاقے شدیدمتاثرہوئے ہیں۔
 
وادی یاسین میں متعددپل دریائے بردہونے کے باعث وادی کاشہری علاقوں سے رابطہ گزشتہ کئی روزسے منقطہ  ہے۔جس کی وجہ سے علاقے میں اشیائے خوردنوش کی شدید قلت پیداہوگئی۔صورتحال سے نمٹنے کے لیےفوج نے ہیلے کاپٹرسروس شروع کی تھی۔تاہم سروس معطل کی گئی ہے جس کی وجہ سے اشیائے خوردنوش کی ترسیل منقطہ ہونے سے علاقے میں قحط اوروبائی امراض پھیلنے کاخدشہ پیداہوگیاہے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ ندیم احمدکاکہناہے کہ گلگت بلتستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سےسولہ لاکھ افراد متاثرہوئے ہیں۔ان علاقوں کاپنجاب،خیبرپختونخوااور چین سے زمینی رابطے منقطع ہیں جس کے باعث اشیائے خودونوش،ادویات اوردیگر ضروری اشیاکی فراہمی کے حوالے سے شدیدمشکلات درپیش ہیں۔ ان کاکہناتھا کہ گلگت بلتستان کے لیے آئندہ تین ماہ تک امدادی سامان کی فراہمی کاسلسلہ جاری رکھناہوگاورنہ انسانی المیہ پیداہونے کاخدشہ ہے۔

No comments:

Post a Comment