Saturday, August 21, 2010

Fuel crisis intensifies in Gilgit Baltistan

گلگت بلتستان میںپٹریلیم مصنوعات کی شدیدقلت،قیمتوں آسمان سے باتیں کرنے لگیں
گلگت بلتستان کاملک کے دیگرعلاقوں سےعارضی رابطہ بحال ہونے کے باوجودپیٹرلیم مصنوعات اورخوراک کی شدیدقلت پیداہوگئی ہے جس کے باعث عوام فاقوں پرمجبورہوگئے ہیں۔مختلف اضلاع میں پیٹرول اورڈیزل ختم ہونے کے باعث متعددپیٹرول پمپ بندہیں۔تاہم جن پیٹرول پمپوں پرپیٹرول اورڈیزل دستیاب ہےوہاں پیٹرول 200روپےاورڈیزل250روپے فی لیٹرکی قیمت پربلیک میں فروخت ہورہاہے۔لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ پورے خطے میں پیٹرول اورڈیزل ناپیدہے لیکن بلیک میں فروخت کرنے والے افرادکوپیٹرول اورڈیزل کہاں سے مل جاتاہے۔جمعے کے روزچندپٹرول پمپوں پرگاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں ۔شہریوں کاکہناہے کہ پمپوں پرڈیزل موجود ہے۔لیکن انہیں نہیں دیاجارہاہے ان کاکہنا ہے کہ پمپ مالکان براہ راست فروخت کرنے کے بجائے بلیک مارکیٹینگ کرنے والوں کی ملی بھگت سے انتہائی مہنگی داموں فروخت کررہے ہیں۔عوام نے بلیک مارکیٹنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کامطالبہ کیاہے۔ ۔مقامی حکومت کاکہناہے کہ پیٹرول اورڈیزل کی محدودمقدارپمپوں کوفراہم کی گئی ہے۔آئی ایس پی آرسےجاری اعلامیہ کے مطابق اب تک 36 ہزارلیٹرپیٹرول گلگت بلتستان بجھوایاگیاہے۔

No comments:

Post a Comment